خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 56

خلافة على منهاج النبوة ۵۶ جلد سوم میرے اتباع کا تو خیال بھی میرے ذہن میں نہ آ سکتا تھا کہ کبھی ہوں گے۔یہ عبارت قرآن کریم کی ایک آیت سے لی گئی ہے جو حضرت مسیح ناصری کے متعلق ہے مگر آیت میں وَجَاعِلُ الَّذِينَ ہے اور میری زبان پر اِنَّ الَّذِینَ کے لفظ جاری کئے گئے۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر عرصہ پہلے سے یہ خبر دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ تیرے متبع تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔اب اس کی ایک مثال تو موجود ہے۔کتنے شاندار وہ لوگ تھے جنہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی مگر دیکھو اللہ تعالیٰ نے ان کو کس طرح مغلوب کیا ہے۔بعد کا میرا ایک اور رویا بھی ہے جو اس کی تائید کرتا ہے۔میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نور کے ستون کے طور پر زمین کے نیچے سے نکلا۔یعنی پاتال سے آیا اور اوپر آسمانوں کو پھاڑ کر نکل گیا۔اگر چہ مثال بُری ہے لیکن ہندوؤں میں یہ عقیدہ ہے کہ شو جی زمین کے نیچے سے آیا اور آسمانوں سے گزرتا ہوا او پر چلا گیا۔یہ مثال اچھی نہیں مگر اس میں اسی قسم کا نظارہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاتال سے نکل کر افلاک سے بھی اوپر نکل گیا۔میں نے بھی دیکھا کہ ایک نور کا ستون پاتال سے آیا اور افلاک کو چیرتا ہوا چلا گیا۔میں کشف کی حالت میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا کا نور ہے۔پھر اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا لیکن مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ اس کے رنگ میں ایسی مشابہت تھی کہ گویا وہ گوشت کا ہے۔اس میں ایک پیالہ تھا جس میں دودھ تھا جو مجھے دیا گیا اور میں نے اسے پیا اور پیالے کو منہ سے ہٹاتے ہی پہلا فقرہ جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ اب میری اُمت کبھی گمراہ نہ ہو گی۔معراج کی حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین پیالے پیش کئے گئے۔پانی ، شراب اور دودھ کا اور آپ نے دودھ کا پیالہ پیا تو جبرائیل نے کہا کہ آپ کی اُمت کبھی گمراہ نہ ہو گی۔ہاں اگر آپ شراب کا پیالہ پیتے تو یہ اُمت کی گمراہی پر دلالت کرتا ہے۔پس ان رؤیاؤں سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے دشمن باہر سے مایوس ہو کر ہم میں سے بعض کو دور غلا نا چا ہے لیکن بہر حال فتح اُن کی ہے جو میرے ساتھ ہیں۔میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ یہ واقعات میری زندگی میں ہوں گے یا میرے بعد کیونکہ بعض اوقات زندگی کے