خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 50
خلافة على منهاج النبوة ۵۰ جلد سوم تھے وہ جانتے تھے کہ ممکن ہے وہاں لڑائی ہو اور میں مارا جاؤں یا زخمی ہو جاؤں۔یا ممکن ہے مقدمہ چلے اور با وجود دفاعی پہلو اختیار کرنے کے میری براءت ثابت نہ ہو اور میں قید یا پھانسی کی سزا پاؤں مگر پھر بھی وہ تھر تھر کانپ رہے تھے کہ کیوں ہمیں روکا جا رہا۔جا رہا ہے اور کوئی خیال انہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا تھا۔اُس وقت میری آواز تھی کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھے تو جماعت سے نکال دوں گا۔یہ لفظ تھے جنہوں نے اُن کو آگے بڑھنے سے رو کاور نہ کوئی قانون اُس وقت تک نہ انہیں روکتا تھا اور نہ روک سکتا تھا۔مگر کون سا قانون ہے جو مجھ سے یہ امید کرتا ہے کہ جب کسی کے بھائی بندوں پر یا اس پر دشمن حملہ آور ہو اور قانون اُسے خود حفاظتی کی اجازت دیتا ہو میں اسے اس حق کے استعمال سے روکوں۔جہاں تک مجھے معلوم ہے ایسا کوئی قانون نہیں اور میں صرف سلسلہ کی نیک نامی اور حکومت کی خیر خواہی کے لئے یہ کام کر رہا ہوں مگر حکومت کا بھی تو فرض ہے کہ وہ اس قربانی کی قدر کرے وگرنہ ہمارے دل اس قدر زخمی ہیں کہ اگر دشمنوں کے حملوں کا جواب ہم سختی سے سے دیں تو کوئی قانون ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں گرفت نہیں کر سکتا کیونکہ مجرم وہ ہے جو پہلے گالی دیتا ہے۔اس وقت تک میں یہی سمجھتا ہوں کہ انسانی فطرت ایسی سیاہ نہیں ہو گئی کہ ملک کے لوگ زیادہ دیر تک اس گند کی اجازت دیں اور نہ حکومت کی ساری کی ساری مشینری خراب ہو چکی ہے بلکہ اس کا بیشتر حصہ ابھی اچھا ہے چند مقامی افسر اسے دھوکا دے رہے ہیں اور ان کی نیست یہ ہے کہ احمد یوں کو گورنمنٹ سے لڑا کر وہ کام کریں جو کانگرس نہیں کر سکی مگر میں ان لوگوں کو نا کام کرنے کے لئے انتہائی کوشش کروں گا اور جماعت کا قدم وفاداری کی راہ سے ہٹنے نہ دوں گا۔پس جب تک میں یہ نہیں کہہ دیتا کہ میری سب تدابیر ختم ہو چکی ہیں اُس وقت تک ہماری جماعت کے احباب کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نفوس کی قربانی کر کے اور دلوں کا خون کر کے بھی جوشوں کو دبائیں اور ایسی باتوں سے مجتنب رہیں جن سے میری گرفت ان پر ہو اور میں یہ کہہ سکوں کہ تم نے ایسا فعل کیا ہے جس کی سزا گو قانون نہ دیتا ہومگر میں خود دینی چاہتا ہوں۔یاد رکھو کہ ہمارا سلسلہ کوئی ایک دو دن کا نہیں بلکہ یہ ایک لمبی چیز ہے۔ساری دنیا کی