خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 561

خلافة على منهاج النبوة ۵۶۱ جلد سوم خلیفہ وقت کے حکم کی تعمیل با بو عبدالحمید صاحب نے سوال اٹھایا تھا کہ ایک گزشتہ مجلس مشاورت میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ محصلوں کا کام بجٹ تشخیص کرنا ہوگا۔اس کا جواب مختلف پہلوؤں سے خاں صاحب نے دینے کی کوشش کی ہے مگر حقیقی جواب کی طرف نہیں آئے۔انہوں نے کہا ہے شہری جماعتیں خود بجٹ بنایا کریں مگر یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسی کل ناظر اعلیٰ نے ایک موقع پر کہی کہ ایک بات خلیفہ نے کہی تھی اور ایک ناظروں نے کہی اور جب ہم نے ناظروں کی بات مان لی تو خلیفہ کی کس طرح مان سکتے تھے۔خاں صاحب کو چاہئے تھا کہ یا تو میرے فیصلہ کو رد کر تے یا اس کا جواب دیتے۔اگر خلیفہ کی بات واجب العمل ہے تو پھر زید و بکر کا اس کے خلاف خیال لغو ہے۔ورنہ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ناظر صاحب جب چاہیں میرے فیصلہ کو رد کر دیں اور خود جو چاہیں جاری کر دیں۔پس اگر میرے فیصلہ پر عمل کرنا لازمی ہے تو ضروری ہے کہ اگر کسی فیصلہ کے متعلق کوئی مشکل پیش آئے تو اس میں ترمیم کرنے کی اجازت مجھ سے لی جائے۔یہی فیصلہ جس میں یہ ذکر ہے کہ جماعتوں کے بجٹ محصل تشخیص کیا کریں اس پر شہروں میں عمل کرنا اگر ناممکن تھا تو اس میں ترمیم کرنے کی اجازت مجھ سے لے لیتے کہ شہروں کو مستثنیٰ کر دیا جائے۔مگر یہ طریق تو اختیار نہ کرنا اور یہ کہنا کہ میری یہ رائے ہے کہ اب اس فیصلہ پر عمل نہیں کیا جا سکتا خلافت کے نظام کی دھجیاں اڑانی ہیں۔جس نظام پر چلنے کا حکم دیا جائے یا تو اس پر عمل کرنا چاہئے یا پھر صفائی کے ساتھ انکار کر دینا چاہئے۔مگر عملی طور پر تو پیغامیوں کا طریق اختیار کرنا اور منہ سے یہ کہنا کہ ہم خلیفہ کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں یہ درست اور مومنانہ طریق نہیں۔اگر خلیفہ کا فیصلہ قابل عمل سمجھا جاتا تو اس پر عمل کرنا چاہئے اور اگر نہیں سمجھا جاتا تو صاف طور پر کہہ دینا چاہئے تا کہ جماعت