خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 559
خلافة على منهاج النبوة ۵۵۹ جلد سوم شوری میں رائے کا اظہار دیانتداری سے کریں دد بعض دوست ایسے موقع پر اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت جب پہلے اپنی رائے کا اظہار کر دے تو پھر شوری کا مشورہ مشورہ نہیں رہتا کیونکہ لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ خلیفہ وقت کی رائے کے مطابق رائے دیں خواہ اُن کو اس سے کیسا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔مگر میں سمجھتا ہوں جماعت کی تربیت کے لئے ایسا ہونا ضروری ہے۔میرے نزدیک جماعت کو اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرنا چاہئے کہ باوجود اس اقرار کے کہ وہ خلیفہ وقت کی کامل اطاعت کرے جب اس سے مشورہ لیا جائے تو وہ خواہ مشورہ لینے والا نبی ہی کیوں نہ ہو جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنی دیانتدارانہ رائے کا اظہار کر دے اور ہر گز کسی اور رائے سے متاثر نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی ثابت ہے کہ آپ نے بعض مقامات پر پہلے اپنی رائے کا اظہار فرمایا اور پھر لوگوں سے مشورہ لیا اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ یقین رکھتے تھے کہ جہاں تک رائے کا سوال ہے صحابہ رائے دیتے وقت ہر قسم کے اثرات سے آزاد رہیں گے اور یہ دیانتدارانہ رنگ میں اپنا مشورہ پیش کریں گے۔اسی طرح میں بعض دفعہ اپنی رائے کا پہلے ہی اظہار کر دیا کرتا ہوں تا مشورہ دینے سے پہلے اُس کے مختلف پہلو جماعت کے سامنے آجائیں مگر اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ جب دوستوں سے رائے لی جائے تو اُن کا فرض ہے کہ وہ وہی رائے دیں جس پر اُن کے دل کو اطمینان حاصل ہو۔محض اس لئے کہ ایک نبی نے یا خلیفہ وقت نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے بلا وجہ اپنی رائے کو بدل لینا درست نہیں۔ہاں اگر دلائل سن کر کسی شخص کی رائے واقعہ میں بدل گئی ہو تو اسے کوئی شخص مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی پہلی رائے ہی پیش کرے کیونکہ دلائل نے اسے پہلی رائے پر قائم نہیں رہنے دیا۔بہر حال اگر کوئی شخص