خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 548
خلافة على منهاج النبوة ۵۴۸ جلد سوم کہ جماعت احمد یہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے بھی روز روز نہیں آتے۔پھر یہ کہنے کا موقع کہ فلاں بات ہم سے چھپیں تیس سال پہلے خدا تعالیٰ کے نبی نے یوں کہی یہ بھی روز روز میسر نہیں آتا۔جو روحانیت اور قرب کا احساس اس شخص کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ آج سے تیس سال پہلے خدا تعالیٰ کے ما مور اور مرسل نے یہ فرمایا تھا اُس شخص کے دل میں کیونکر پیدا ہوسکتا ہے جو یہ کہے کہ آج سے دوسو سال پہلے خدا تعالیٰ کے فرستادہ نے فلاں بات یوں کہی تھی کیونکہ دوسو سال بعد کہنے والا اس کی تصدیق نہیں کر سکتا لیکن ہیں تھیں سال بعد کہنے والا اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔پس ضرورت ہے اس بات کی کہ جماعت جماعت متحد الخیال ہو جائے متحد الخیال ہو کر خلیفہ کو اپنا ایسا استاد سمجھے کہ جو بھی سبق وہ دے اسے یاد کرنا اور اس کے لفظ لفظ پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھے۔اتحاد خیالات کے ساتھ قو میں بہت بڑی طاقت حاصل کر لیا کرتی ہیں ورنہ یوں نظام کا اتحاد بھی فائدہ نہیں دیتا جب تک اتحادِ خیالات نہ ہو۔یورپ کا حال کا تجربہ دیکھ لو۔اٹلی یورپ میں ذلیل ترین حکومت سمجھی جاتی تھی لیکن جب مسولینی نے اٹلی میں اتحادِ خیالات پیدا کیا تو آج اٹلی کے لوگ کہتے ہیں کہ یورپ کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور اتنا تو ہم نے بھی دیکھا ہے کہ شیر انگلستان جس کے چنگھاڑنے سے کسی وقت دنیا کانپ جاتی تھی اسے بھی اٹلی کے مقابلہ میں آکر دُم دبانی ہی پڑی۔یہ ایک کھلا ہوا راز ہے کہ اُس وقت انگریزی حکومت لڑائی کو ضروری سمجھتی تھی اور وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کی ذلت ہوئی ہے مگر اس کے افسروں نے کہہ دیا کہ اگر اس وقت اٹلی سے لڑائی شروع کی گئی تو اس کا نتیجہ خوش کن نہ ہوگا اور ہم لڑائی کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس میں شک نہیں کہ یہ کمزوری صرف اس لئے نہ تھی کہ اٹلی طاقتور ہے بلکہ اس لئے تھی کہ اور طاقتیں بھی اندرونی طور پر اٹلی کے ساتھ تھیں۔مگر ایک زمانہ کا انگلستان وہ تھا کہ دوسری طاقتوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا۔اس قدر طاقت اٹلی کو کہاں سے حاصل ہوئی ؟ اسی سے کہ مسولینی نے اٹلی والوں میں اتحادِ خیالات