خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 41
خلافة على منهاج النبوة ۴۱ جلد سوم تو بہر حال منع ہے خواہ کسی جذبہ کے ماتحت ہو مگر بعض افعال ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بعض صورتوں میں تکلف اور بعض صورتوں میں جذبہ بے اختیاری کے ماتحت صادر ہوتے ہیں۔اس کے بعد آپ نے تحریر فر مایا کہ اگر کوئی شخص اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ ایک بڑے آدمی کے آنے پر چونکہ باقی لوگ کھڑے ہیں اس لئے میں بھی کھڑا ہو جاؤں تو وہ گنہگار ہو گا۔مگر وہ جو بے قرار ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے جیسے معشوق جب عاشق کے سامنے آئے تو وہ اس کے لئے کھڑا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، اس پر گرفت نہیں۔قاضی سید امیرحسین صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص احمدی تھے۔میں نے ان سے بہت عرصہ پڑھا ہے وہ احمدیت کے متعلق اپنے اندر عشق کا جذبہ رکھتے تھے۔مجھے یاد ہے میری خلافت کے ایام میں ایک دفعہ جب میں مسجد میں آیا تو قاضی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے میں نے کہا قاضی صاحب ! آپ تو کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا شرک قرار دیا کرتے تھے کہنے لگے۔” کی کراں میں سمجھدا تے ایہی ہاں پر دیکھدے ہی کچھ ہو جاندا اے رہیا جاندا ہی نہیں۔یعنی کیا کروں میں سمجھتا تو یہی ہوں لیکن آپ کو دیکھ کر ایسا جذ بہ طاری ہوتا ہے کہ میں بیٹھا نہیں رہ سکتا۔تو حالات کے مختلف ہونے اور جذبات کی بے اختیاری کی وجہ سے حکم بدلتے رہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں مصافحہ بھی اسی رنگ کی چیز ہے۔جب مصافحہ رسم ورواج کے ماتحت ہویا دکھاوے کے طور پر یا اس لئے ہو کہ شاید یہ شرعی احکام میں سے ہے یا اخلاص کے اظہار کا یہ بھی کوئی ذریعہ ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔لیکن جب کوئی دیر سے ملتا ہے اور چاہتا ہے کہ بتلائے کہ میں آگیا ہوں یا بیمار چاہتا ہے کہ میں بتاؤں مجھے صحت ہوگئی ہے یا کوئی اس لئے مصافحہ کرتا ہے کہ تا دعاؤں میں وہ یا درہ سکے تو ایسے موقعوں پر مصافحہ ایک نہایت ہی مفید مقصد کو پورا کر رہا ہوتا ہے۔مگر دوسرے اوقات میں وہ بعض دفعہ وقت کو ضائع کرنے والا بھی ہو جاتا ہے۔یہ چند باتیں ہیں جو میں نے کہی ہیں اور کچھ باتیں اس وقت بھول بھی گئی ہیں اور بعض ممکن ہے ابھی اور بھی بیان کرنے والی ہوں ، انہیں پھر بیان کر دوں گا۔لیکن یہ تمام باتیں اپنی اپنی جگہ بہت سے مفید مقاصد رکھتی ہیں جماعت کو چاہئے کہ انہیں مدنظر رکھے۔مجالس کو کھلا رکھنا چاہیے ، قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضروری ادب ہے اور اس کے بہت سے فائدے