خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 40

جلد سوم خلافة على منهاج النبوة حسین یا آپ کے کپڑوں کو ہی چھولیتے۔ایسے لوگ محبت کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں۔مگر مجھے شبہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہر وقت مصافحہ کرنا ضروری ہے۔مصافحہ کا اصل وقت تو وہ ہوتا ہے جب کوئی شخص باہر جا رہا ہو یا باہر سے آیا ہو۔یا سا تو میں آٹھویں دن اس لئے مصافحہ کرے کہ تا دعاؤں میں اسے یا درکھا جائے اور اس کا تعارف قائم رہے یا کسی بیمار نے بیماری سے شفا پائی ہو تو وہ یہ بتانے کیلئے مصافحہ کرے کہ اب وہ اچھا ہو گیا ہے یہ اور چیز ہے مگر ہالالتزام بغیر اس کے کہ نفس اس مقام پر پہنچا ہوا ہو کہ انسان مصافحہ کرنے پر مجبور ہو جائے دوسروں کو دیکھ کر یہ کام کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قاضی سید امیرح صاحب مرحوم کو جو میرے استاد بھی تھے بوجہ اس کے کہ وہ اہلحدیث میں سے آئے تھے بعض مسائل میں اختلاف تھا۔ایک دفعہ یہ سوال زیر بحث تھا کہ مجلس میں کسی بڑے آدمی کے آنے پر کھڑا ہونا جائز ہے یا نہیں قاضی سید امیر حسین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ شرک ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔آخر یہ جھگڑا اتنا طول پکڑ گیا کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے پیش کیا گیا۔اُس وقت یہ سوال ایک رقعہ پر لکھا گیا اور میں رقعہ لے کر اندر گیا۔اُس وقت اگر چہ میں طالب علم تھا مگر چونکہ مذہبی باتوں سے مجھے بچپن ہی سے دلچسپی رہی ہے اس لئے میں ہی وہ رقعہ اندر لے گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کے جواب میں زبانی کہا یا تحریر کیا مجھے اچھی طرح یاد نہیں خیال یہی آتا ہے کہ آپ نے تحریر فرمایا کہ دیکھو وفات کے موقع پر کوئی ایسی حرکت کرنا جیسے دو ہتر مارنا شریعت نے سخت ناجائز قرار دیا ہے لیکن جہاں تک مجھے خیال ہے روایت تو صحیح یا دنہیں آپ نے غالباً حضرت عائشہ کا ذکر کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر انہوں نے بے اختیار اپنے سینہ پر ہاتھ مارا یہ روایت لکھ کر آپ نے تحریر فرمایا کہ ایک چیز ہوتی ہے تکلف اور بناوٹ اور ایک چیز ہوتی ہے جذبہ بے اختیاری۔جوامر جذبہ بے اختیاری کے ماتحت ہو اور ایسا نہ ہو جو نص صریح سے ممنوع ہو بعض حالتوں میں وہ جائز ہوتا ہے اور وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ فعل کرنے والے نے کس رنگ میں کیا۔سجدہ