خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 499
خلافة على منهاج النبوة ۴۹۹ جلد سوم مسلمانوں کو مٹانے کے لئے کافی تھے۔لیکن کیا بات تھی کہ مسلمان آگ کے شعلوں اور موت کے منہ سے بھی نکل آئے اور ان کا بال تک بیکا نہ ہوا اور ہر گھڑی فتح و نصرت ان کے ساتھ رہی ؟ وہ یہی وعدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا کہ اے رسول اللہ ! آپ گھبرائیں نہیں ، آپ کی قوم کی دستگیری اللہ تعالیٰ کرے گا اور اسے ہر میدان میں فتح مند کرے گا۔پھرا بھی اندرونی خلفشار ختم ہی ہوئی تھی کہ عراق میں ایرانی حکومت کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی۔ایرانی حکومت اُن دنوں بڑی ترقی یافتہ حکومت تھی اور اس کی فوج تربیت یافتہ اور ان کے پاس بہت ساز و سامان تھا اور مسلمان ان کے مقابلہ میں ایسے ہی تھے جیسے باز کے مقابلہ میں چڑیا کی حیثیت ہوتی ہے۔لیکن جو نبی عراق میں معر کے شروع ہوئے یکے بعد دیگرے ایرانیوں کو خطرناک طور پر شکست ہوئی اور ان کو پسپا ہونا پڑا۔ابھی مسلمان اس طرف سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ شام اور مصر میں رومیوں سے جنگ چھڑ گئی اور دمشق ، اردن، حمص اور فلسطین میں سب طرف فوجوں کو بھیجنا پڑا اور سب طرف جنگ کے شعلے بلند ہونا شروع ہو گئے۔ایسے نازک حالات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے اور آپ کی وفات ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کی نصرت نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر مسند خلافت پر بٹھا دیا۔آپ کے عرصہ خلافت میں سب طرف جنگ کا میدان گرم رہا اور ان جنگوں میں بعض اوقات مسلمانوں میں سے ایک ایک آدمی نے اپنے مخالفوں میں سے ایک ایک ہزار کا مقابلہ کیا اور مخالفوں کی لاکھوں کی تعداد میں آنے والی فوج کو چند ہزار مسلمانوں نے روند ڈالا اور وہ ہر میدان سے کامیاب و کامران آئے اور ایران اور روم جیسی عظیم الشان ترقی یافتہ سلطنتوں کے پر نچے اُڑا دیئے اور مصر، شام، فلسطین اور ہندوستان کی سرحد سے لے کر شمالی افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت شروع ہوا اور اس میں بھی مسلمان سیلاب کی طرح بڑھتے چلے گئے اور خراسان ، افغانستان اور سندھ تک قبضہ کر لیا اور شمالی افریقہ کے علاقے طرابلس ، تیونس،