خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 35

خلافة على منهاج النبوة ۳۵ جلد سوم سوسائٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے۔یورپین لوگ یوں تو صفائی کے بڑے پابند ہیں مگر کھانا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کرنے کے وہ بھی عادی نہیں اور اس وجہ سے اگر ان کے اُن پوڈروں اور یو ڈی کلون وغیرہ خوشبوؤں کو نکال دیا جائے جو وہ اپنے چہروں پر ملتے ہیں تو صاف طور پر ان کے منہ سے بد بو محسوس ہوتی ہے۔اب چونکہ انہیں ہندوستانیوں سے ملنے کا موقع ملا ہے اس لئے آہستہ آہستہ ان میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے اور مجھے بھی بعض انگریزوں سے ملنے کا موقع ملا ہے میں نے دیکھا ہے کہ اب مسلمانوں سے مل کر وہ صفائی کے اس پہلو کو بھی سیکھ رہے ہیں۔غرض مجلس میں آنے والوں کو یہ امور مدنظر رکھنے چاہئیں۔اگر کسی شخص کو بغل گند ہو یا اُس کے ہاتھوں کی انگلیاں خراب ہوں اوران میں ایسی بُو ہو جو دوسروں کو ناگوار گزرے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسی صفائی کے بعد مجلس میں آئے جس سے اس کے اثر کو کم سے کم مضر بنایا جا سکے۔یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج پیدا کیا ہے لیکن اگر کسی کو علاج میسر نہیں آتا تو وہ عارضی صفائی کے بعد مجلس میں آیا کرے۔پھر مجلس میں ان چیزوں کے بعد ایک اور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب لوگ بیٹھتے ہیں تو ایسا تنگ حلقہ بناتے ہیں کہ اس میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ مجلس میں زیادہ دیر بیٹھنے کو میرا جی چاہا مگر تنگ حلقہ کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں مجھے سر درد ہو گیا اور میں اُٹھنے پر مجبور ہو گیا اور بسا اوقات میں صحت کے ساتھ مجلس میں بیٹھتا ہوں اور بیمار ہو کر اُٹھتا ہوں۔ہر شخص اپنے اخلاص میں یہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں ایک انچ آگے بڑھ گیا تو کیا نقصان ہے اور اس طرح ہر شخص کے ایک ایک انچ بڑھنے سے وہی مثال ہو جاتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کو وہم کی بیماری تھی۔وہ جب با جماعت نماز میں کھڑا ہوتا تو کہتا ” چار رکعت نماز فرض پیچھے اس امام کے اور پھر خیال کرتا کہ امام اور میرے درمیان تو کئی صفیں ہیں نیت ٹھیک نہیں ہوئی۔یہ خیال کر کے وہ بڑھتے بڑھتے پہلی صف میں آجاتا اور امام کی طرف اشارہ کر کے کہتا پیچھے اس امام کے۔آخر اس طرح بھی اس کی تسلی نہ ہوتی تو وہ امام کو ہاتھ لگا کر کہتا پیچھے اس امام کے۔پھر بڑھتے بڑھتے اس کے وہم کی یہاں تک کیفیت ہو جاتی کہ وہ امام کو دھکے دینے لگ جاتا اور کہتا پیچھے اس