خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 34

خلافة على منهاج النبوة ۳۴ جلد سوم۔غسل کر سکتا ہے اور ہر وقت خوشبو استعمال کر سکتا ہے۔جمعہ اور عیدین کے ساتھ منسل جو رکھا گیا ہے وہ محض اس لیے کہ ان موقعوں پر جبکہ اثر دہام ہوتا ہے کئی لوگوں کو جلدی بیماریاں ہوتی ہیں ، بعضوں کو کھجلی ہوتی ہے، بعضوں کو بغل گند کی شکایت ہوتی ہے ، بعضوں کے ہاتھ یا منہ وغیرہ میں بیماری ہوتی ہے مگر تازہ بتازہ غسل کے ساتھ کچھ عرصہ کے لئے اس قسم کی بیماریاں دب جاتی ہیں اور پاس بیٹھنے والے اتنی تکلیف محسوس نہیں کرتے جتنی دوسری صورت میں کر سکتے ہیں۔یا مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسجد میں گندنا " پیاز اور لہسن وغیرہ ایسی چیزیں کھا کر مت آیا کرو۔یہ چیزیں اپنی ذات میں مضر نہیں لیکن اِن کی بو سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے کھانے سے فرشتے نہیں آتے۔کے جس کے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو تکلیف دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے ملائکہ اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔یہ ایک مثال ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ورنہ اگر کسی کو کوئی ایسی بیماری ہے جس سے بُو پیدا ہوتی ہے اور وہ اس کا وقتی علاج کر کے بھی مجلس میں نہیں آتا تو وہ بھی فرشتوں کی معیت سے محروم رہتا ہے۔عام طور پر میں دیکھتا ہوں ہمارے ملک میں پچانوے فیصدی لوگوں کے منہ سے بدبو آتی ہے یہ بدبو کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ محض اس بے اختیاطی کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کھانے کے بعد گلی نہیں کرتے یا درمیانی وقفوں میں اگر مٹھائی یا کوئی میوہ وغیرہ کھاتے ہیں تو اس کے بعد منہ کی صفائی نہیں کرتے یا لمبے عرصہ تک خاموش رہنے اور منہ بند ر کھنے کے بعد بھی منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے لوگ بھی صفائی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور جب مجلس میں ایسے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے تو ہر ایک کی تھوڑی تھوڑی بُو مل کر ایسی تکلیف دہ چیز بن جاتی ہے کہ بیسیوں کمزور صحت والوں کو سر درد، نزلہ اور کھانسی وغیرہ کی شکایت ہو جاتی ہے۔اسلام نے ہمارے لئے ہر بات کے متعلق احکام رکھے ہیں۔یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدن ہے۔اسلامی تمدن نماز کا نام نہیں ، روزے کا نام نہیں ، زکوۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیر پیدا کر دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری