خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 466
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۶ جلد سوم کے لئے لوگ جب تسبیح کے دانے پروتے ہیں تو تاگے کے دونوں سرے اکٹھے کر کے ایک لمبا دانا پُر و دیتے ہیں اور اسے امام کہتے ہیں۔در حقیقت اس سے قومی تنظیم کی اہمیت کی طرف ہی اشارہ ہوتا ہے اور یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ جس طرح تسبیح کے دانوں کے لئے ایک امام کی ضرورت ہے اسی طرح تمہیں بھی ہمیشہ ایک امام کے پیچھے چلنا چاہئے ورنہ تمہاری تسبیح وہ نتیجہ پیدا نہیں کر سکے گی جو اجتماعی تسبیح پیدا کیا کرتی ہے لیکن بہت کم ہیں جو اس گر کو سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ شخص مومن ہی نہیں ہوسکتا جو ایسے امور میں جو ساری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اپنی رائے اور منشا کے ماتحت کام کرے اور امام کی کوئی پرواہ نہ کرے۔مومن کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اگر کوئی دینی کام ہوتو اجازت لے لے اور اگر کوئی اہم دینوی کام ہو جس کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہو تو امام سے مشورہ لے لے۔بہر حال امر جامع سے علیحدہ ہونے کیلئے استیذان ضروری ہوتا ہے۔مگر چونکہ انسان کا امر جامع سے علیحدہ ہونا اس کی شامت اعمال کی وجہ سے ہوگا اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے اجازت تو دے دو مگر ساتھ ہی دعا کیا کرو کہ خدا تعالیٰ اسے معاف کرے اور اس کی کمزوریوں کو دور کرے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۶ صفحه ۴۰۶ تا ۴۰۸) مسلم کتاب الایمان باب الدليل على ان من مات على التوحيد صفحه ۳۷ حدیث نمبر ۱۴۷ مطبوعہ ریاض ۲۰۰۰ء الطبعة الثانية