خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 465
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم قادیان آنے کا ارادہ فرمایا تو چونکہ حضرت اماں جان ) نے ابھی وہاں کچھ دن اور ٹھہر نا تھا اس لئے آپ نے مجھے لاہور میں ہی رہنے کی ہدایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم ان کے ساتھ آجانا۔جب میں آیا اور آپ کے پاس آکر السّلامُ عَلَيْكُمُ کہا تو میرے سلام کا جواب دینے سے بھی پہلے آپ نے فرمایا میاں ! تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ؟ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ جتنے آدمی تھے وہ سارے ہمیں بٹالہ چھوڑ کر آ گئے اس سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے امر جامع کے متعلق جو قر آنی حکم تھا اُس پر عمل نہ کیا۔خلیفہ وقت کا وجود تو ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا اثر سارے عالم اسلام پر پڑتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو اس کا اثر لازماً سب جماعت پر پڑے گا اس لئے اس بارہ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ تو اس سختی کے ساتھ اس پر عمل کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوڑی دیر کے لئے بھی ادھر اُدھر ہونا ان کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے کرتے مجلس سے اٹھے اور تھوڑی دیر تک واپس نہ آئے تو سب صحابہؓ آپ کی تلاش میں بھاگ پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تشریف لے گئے تھے وہ سب کے سب آپ کے پیچھے اٹھ کر چلے گئے اور انہیں اُس وقت ایسی گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی کہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں گھبراہٹ میں مجھے باغ کے اندر جانے کا راستہ بھی نظر نہ آیا اور میں گندے پانی کی نالی میں سے گزر کر اندر داخل ہوالے حالانکہ عموماً انہیں کمزور دل سمجھا جاتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ دین کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو افراد سے تعلق رکھتے ہیں جیسے نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج وغیرہ اور دوسرے ایسے احکام جو تمام لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے جہاد یا مشورہ کے لئے قوم کا جمع ہونا یا کوئی ایسا حکم جو ساری جماعت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر دیا گیا ہو۔جو کام ساری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں افراد سے نہیں ان میں سب کو ایسا پر دیا ہوا ہونا چاہئے جیسے تسبیح کے دانے ایک تاگے میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی کو ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہونا چاہئے۔اور اگر کوئی ضروری کام کے لئے جانا چاہے تو امام کی اجازت سے جائے۔اسی حقیقت کو تصویری زبان میں ظاہر کرنے