خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 455

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۵ جلد سوم دولت مند ہیں۔پس قوم سے وعدہ کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ افراد کے ذریعہ وہ وعدہ پورا نہ ہو۔کئی وعدے قوم سے ہی ہوتے ہیں لیکن پورے وہ افراد کے ذریعہ کئے جاتے ہیں۔اس کی۔مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمٍ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أنْبِيَاء وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا ٢٦) یعنی موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث کئے اور اس نے تم کو بادشاہ بنایا۔اب کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ سب بنی اسرائیل بادشاہ بن گئے تھے۔یقیناً ان بنی اسرائیل میں بڑے بڑے غریب بھی ہوں گے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے یہی فرماتے ہیں جَعَلَكُمْ قُلُوكًا اس نے تم سب کو بادشاہ بنایا مراد یہی ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ قوم ان انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہو گئی۔پس جب جَعَلَكُمْ تُلُوكًا کی موجودگی کے باوجود اس آیت کے یہ معنی نہیں کئے جاتے کہ ہر یہودی بادشاہ بنا تو وعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وعَمِلُوا الصلحت لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِهِمْ سے یہ کیونکر نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ وعدہ بعض افراد کے ذریعہ پورا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اُمت کے ہر فر دکو خلافت کا انعام ملنا چاہئے۔پھر اگر اس سے قومی غلبہ بھی مراد لیں تو تب بھی ہر مومن کو یہ غلبہ کہاں حاصل ہوتا ہے پھر بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بعض افراد کو غلبہ ملتا ہے اور بعض کو نہیں ملتا۔صحابہ میں سے بھی کئی ایسے تھے جو قومی غلبہ کے زمانہ میں بھی غریب ہی رہے اور اُن کی مالی حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوئی۔حضرت ابو ہریرہ کا ہی لطیفہ ہے کہ جب حضرت علی اور حضرت معاویہ کی آپس میں جنگ ہوئی اور صفین کے مقام پر دونوں لشکروں نے ڈیرے ڈال دیئے تو با وجود اس کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے کیمپوں میں ایک ایک میل کا فاصلہ تھا جب نماز کا وقت آتا تو حضرت ابو ہریرہ کا حضرت علیؓ کے کیمپ میں آجاتے اور جب کھانے کا وقت آتا تو حضرت معاویہ کے کیمپ میں چلے جاتے۔کسی نے ان سے کہا کہ آپ