خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 454

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۴ جلد سوم درجہ کا نظارہ نظر آتا ہے جو اس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود مقام خلافت پر کھڑا کیا تھا اور وہ آپ اُن کی تائید اور نصرت کا ذمہ دار رہا۔اب میں اُن اعتراضات کو لیتا ہوں جو عام طور پر اس آیت پر کئے جاتے ہیں۔پہلا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں اُمت مسلمہ سے وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد سے اور اُمت کو خلیفہ بنانے کا وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد کو۔پس اس سے مراد مسلمانوں کو غلبہ اور حکومت کا میسر آجانا ہے نہ کہ بعض افراد کا خلافت پر متمکن ہو جانا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ وعدہ قوم سے ہے مگر قوم سے کسی وعدہ کے کئے جانے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ افراد کے ذریعہ وہ وعدہ پورا نہ ہو۔بعض وعدے قوم سے ہوتے ہیں لیکن افراد کے ذریعہ پورے کئے جاتے ہیں اور کہا یہی جاتا ہے کہ قوم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہو گیا۔اس کی مثالیں دنیا کی ہر زبان میں ملتی ہیں۔مثلاً ہماری زبان میں ہی کہا جا تا ہے کہ انگریز با دشاہ ہیں۔اب کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر انگریز بادشاہ ہے؟ ہر انگریز تو نہ بادشاہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے مگر کہا یہی جاتا ہے کہ انگریز با دشاہ ہیں۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم حاکم ہے حالانکہ ساری قوم کہاں حاکم ہوتی ہے چند افراد کے سپر دحکومت کا نظم ونسق ہوتا ہے اور باقی سب اس کے تابع ہوتے ہیں۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم بڑی دولت مند ہے مگر اس کے یہ معنی تو نہیں ہوتے کہ اس قوم کا ہر فرد دولت مند ہے۔انگریزوں کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے دولت مند ہیں حالانکہ ان میں بڑے بڑے غریب بھی ہوتے ہیں۔ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے ایک دفعہ سنایا کہ جب وہ لندن میں تھے تو ایک دن جس مکان میں وہ رہتے تھے اس کا کوڑا کرکٹ اُٹھا کر خادمہ نے جب باہر پھینکا تو ایک انگریز لڑ کا جھپٹ کر آیا اور اُس نے کوڑے کرکٹ کے انبار میں سے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا نکال کر کھا لیا۔اسی طرح برنڈزی میں میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے سر پر برتن رکھ کر پانی لینے جاتی تھیں اور ان کے بچوں نے جو پتلونیں پہنی ہوئی تھیں اُن کا کچھ حصہ کسی کپڑے کا ہوتا تھا اور کچھ حصہ کسی کپڑے کا۔مگر کہا یہی جاتا ہے کہ یورپین بڑے