خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 31

خلافة على منهاج النبوة ۳۱ جلد سوم غلطی بتا نا نہیں بلکہ بیوقوف بنانا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے صحابہ کے متعلق ایک حدیث آتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ سوالات نہیں کرتے تھے ان سے زیادہ سوال کرنے والا ہمیں کوئی نظر نہیں آتا۔حدیثیں ان کے سوالات سے بھری پڑی ہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کلام کر رہے ہوتے تو وہ ہمہ تن گوش ہو جاتے اور یوں معلوم ہوتا کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں اگر انہوں نے ذرا حرکت کی تو پرندے اُڑ جائیں گے۔تیسری چیز جس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ جو لوگ چند دنوں کیلئے عارضی طور پر باہر سے یہاں آتے ہیں ان کو آگے بیٹھنے کا زیادہ موقع دینا چاہئے۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ قادیان کے لوگ آگے نہ بیٹھا کریں بلکہ ان کے ایک حصہ کا آگے بیٹھنا ضروری ہوتا ہے اور دوسرے حصہ میں سے اگر کوئی شخص کوشش کر کے آگے بیٹھتا اور اس طرح اپنے حق کو مقدم کر لیتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے اس حق سے محروم کیا جائے۔میں سمجھتا ہوں اگر کسی کو متواتر آگے بیٹھنے کا موقع ملتا رہے تو آخر میں وہ سست ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص متواتر آگے بیٹھنے کے باوجود سُست نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ کوشش کر کے آگے جگہ حاصل کرتا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ محض اس وجہ سے کہ وہ ہمیشہ آگے بیٹھا کرتا ہے اُس کی محبت کو مسل دیا جائے اور اس کے جذبہ اخلاق کی قدر نہ کی جائے۔پس ہم ایسے لوگوں کی محبت کی قدر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے غرباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! ہمیں ایک بڑی مشکل نظر آتی ہے۔جب ہم جہاد کیلئے جاتے ہیں تو امراء بھی جہاد کے لئے چل پڑتے ہیں۔جب روزوں کا وقت آتا ہے تو ہمارے ساتھ یہ بھی روزوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔جب نمازیں پڑھتے ہیں تو یہ بھی اخلاص سے نمازیں پڑھتے ہیں۔مگر یا رسول اللہ ! جب چندہ دینے کا وقت آتا ہے تو ہم کچھ نہیں دے سکتے اور یہ سے آگے نکل جاتے ہیں۔اس وجہ سے ہمیں بڑی تکلیف ہے اور ہماری سمجھ میں نہیں ا