خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 435

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۵ جلد سوم میں جس خلافت کا ذکر کیا گیا ہے وہ خلافت ملوکیت نہیں۔پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَباهم کہ ہم ان خلفاء پر ویسے ہی انعامات نازل کریں گے جیسے ہم نے پہلے خلفاء پر انعامات نازل کئے تو اس سے مراد یہی ہے کہ جیسے پہلے انبیاء کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اُسی طرح ان کی مدد ہو گی۔پس اس آیت میں خلافت نبوت سے مشابہت مراد ہے نہ کہ خلافت ملوکیت سے۔تیسری بات اس آیت سے یہ کھلتی ہے کہ یہ وعدہ اُمت سے اُس وقت تک کے لئے ہے جب تک کہ اُمت مومن اور عمل صالح کرنے والی رہے۔جب وہ مومن اور عمل صالح کرنے والی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے اس وعدہ کو واپس لے لے گا۔گو یا نبوت اور خلافت میں یہ عظیم الشان فرق بتایا کہ نبوت تو اُس وقت آتی ہے جب دنیا خرابی اور فساد سے بھر جاتی ہے۔جیسے فرما یا ظَهَرَ الْفَسَادُ في البر و البَحْرِ اے یعنی جب بر اور بحر میں فساد واقع ہو جاتا ہے ، لوگ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں، الہی احکام سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں ، ضلالت اور گمراہی میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور تاریکی زمین کے چپہ چپہ کا احاطہ کر لیتی ہے تو اُس وقت لوگوں کی اصلاح کیلئے خدا تعالیٰ کسی نبی کو بھیجتا ہے جو پھر آسمان سے نور ایمان کو واپس لا تا اور ان کو بچے دین پر قائم کرتا ہے لیکن خلافت اُس وقت آتی ہے جب قوم میں اکثریت مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی ہوتی ہے اور خلیفہ لوگوں کو عقائد میں مضبوط کرنے کے لئے نہیں آتا بلکہ تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے آتا ہے۔گویا نبوت تو ایمان اور عمل صالح کے مٹ جانے پر آتی ہے اور خلافت اُس وقت آتی ہے جب قریباً تمام کے تمام لوگ ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلافت اسی وقت شروع ہوتی ہے جب نبوت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ نبوت کے ذریعہ ایمان اور عمل صالح قائم ہو چکا ہوتا ہے اور چونکہ اکثریت اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنی خلافت کی نعمت عطا فرما دیتا ہے۔اور درمیانی زمانہ جب کہ نہ تو دنیا نیکوکاروں سے خالی ہو اور نہ بدی سے پُر ہو دونوں سے محروم رہتا ہے کیونکہ نہ تو بیماری شدید ہوتی ہے کہ نبی آئے اور نہ تندرستی کامل ہوتی ہے کہ اُن سے کام لینے والا خلیفہ آئے۔