خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 434
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۴ جلد سوم اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولّيمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ که خدا تعالیٰ اپنے قائم کردہ خلفاء کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہے گا۔اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ ان کے دین کو خدا تعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا ہے بلکہ یہ اصول روحانی خلفاء کے متعلق ہی ہے۔پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس جگہ جس خلافت سے مشابہت دی گئی ہے وہ خلافت نبوت ہے نہ کہ خلافت ملوکیت۔اسی طرح فرماتا ہے وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آشنا کہ خدا ان کے خوف کو امن سے بدل دیا کرتا ہے یہ علامت بھی دنیوی بادشاہوں پر کسی صورت بھی چسپاں نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیوی بادشاہ اگر آج تاج و تخت کے مالک ہوتے ہیں تو کل تخت سے علیحدہ ہو کر بھیک مانگتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے خوف کو امن سے بدل دینے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جب کوئی سخت خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کی ہمت تک کھو بیٹھتے ہیں۔پھر فرماتا ہے يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کہ وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے گویا وہ خالص موحد اور شرک کے شدید ترین دشمن ہوں گے مگر دنیا کے بادشاہ تو شرک بھی کر لیتے ہیں حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے کبھی کفر بواح بھی صادر ہو جائے۔پس وہ اس آیت کے مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں۔چوتھی دلیل جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خلفاء سے مراد دُنیوی با دشاہ ہرگز نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ یعنی جو لوگ ان خلفاء کا انکار کریں کے وہ فاسق ہو جائیں گے۔اب بتاؤ کہ کیا جو شخص کفر بواح کا بھی مرتکب ہوسکتا ہو آیا اُس کی اطاعت سے خروج فسق ہوسکتا ہے؟ یقیناً ایسے بادشاہوں کی اطاعت سے انکار کرنا انسان کو فاسق نہیں بنا سکتا۔فسق کا فتویٰ انسان پر اسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفاء کی اطاعت سے انکار کرے۔غرض یہ چاروں دلائل جن کا اس آیت میں ذکر ہے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اس آیت