خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 424

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۴ جلد سوم مخصوص تھا بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوۃ دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اُس وقت تک بس نہیں کروں گا جب تک ان سے اُسی رنگ میں زکوۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے سے چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئے اور زکوۃ کا نظام پھر جاری ہو گیا جو بعد کے خلفاء کے زمانوں میں بھی جاری رہا۔مگر جب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوۃ کے حکم پر عمل ہی نہیں کر سکتے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ جیسا کہ اسلامی تعلیم کا منشاء ہے امراء سے لی جاتی ہے اور ایک نظام کے ماتحت غرباء کی ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔اب ایسا وہیں ہوسکتا ہے جہاں ایک باقاعدہ نظام ہو اکیلا آدمی اگر چند غرباء میں زکوۃ کا روپیہ تقسیم بھی کر دے تو اس کے وہ خوشگوار نتائج کہاں نکل سکتے ہیں جو اس صورت میں نکل سکتے ہیں جب کہ زکوۃ ساری جماعت سے وصول کی جائے اور ساری جماعت کے غرباء میں تقسیم کی جائے۔یہ مسئلہ ان سارے اسلامی بادشاہوں کو مجرم قرار دیتا ہے جو سر کاری بیت المال کو اپنی ذات پر اور اپنے تعیش پر قربان کرتے تھے اور بڑے بڑے محل اور بڑی بڑی سیر گا ہیں بناتے تھے۔اگر پبلک اُس کا آرڈر دیتی چونکہ اُس کا روپیہ تھا جائز ہوتا بشرطیکہ اسراف نہ ہوتا لیکن پبلک نے کبھی آرڈر نہیں دیا اور پھر وہ اسراف کی حد سے بھی آگے نکلا ہوا تھا اس لئے یہ سارے کام نا جائز تھے اور ان لوگوں کو گنہ گار بناتے تھے۔نہ اسلام کو تخت طاؤس کی ضرورت تھی نہ تاج محل کی ضرورت تھی ، نہ قصر زہرہ کی ضرورت تھی نہ بغداد کے محلات ہارون الرشید کی ضرورت تھی۔یہ ساری کی ساری چیزیں اسلامی شوکت کی بجائے چند افراد کی شوکت ظاہر کرنے کیلئے بنائی گئی تھیں اس لئے آخر میں ان خاندانوں کی تباہی کا باعث بنیں۔اسی طرح اقامت صلوۃ بھی اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتی اور اس کی