خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 423

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۳ جلد سوم کے اندر بھی خدا تعالیٰ خلافت کو قائم کر دے گا اور خلافت کے ذریعہ سے ان کو ان کے دین پر قائم فرمائے گا جو خدا نے ان کیلئے پسند کیا ہے اور اس دین کی جڑیں مضبوط کر دے گا اور خوف کے بعد امن کی حالت ان پر لے آئے گا جس کے نتیجہ میں وہ خدائے واحد کے پرستار بنے رہیں گے اور شرک نہیں کریں گے۔مگر یا درکھنا چاہیے کہ یہ ایک وعدہ ہے پیشگوئی نہیں۔اگر مسلمان ایمان پالخلافت پر قائم نہیں رہیں گے اور ان اعمال کو ترک کر دیں گے جو خلافت کے قیام کے لئے ضروری ہیں تو وہ اس انعام کے مستحق نہیں رہیں گے اور خدا تعالیٰ پر وہ یہ الزام نہیں دے سکیں گے کہ اس نے وعدہ پورا نہیں کیا۔پھر خلافت کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے که واقيمُوا الصلوة وأتُوا الزَّكوة و أطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔یعنی جب خلافت کا نظام جاری کیا جائے تو اُس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم نماز میں قائم کرو اور زکوۃ دو اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو۔گویا خلفاء کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعت رسول کرنے والے ہی قرار پائیں گے۔یہ وہی نکتہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ مَنْ أَطَاعَ اَمِیرِی فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِي ل یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔پس واقِيمُوا الصلوة وأتُوا الزَّعُوةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونٌ فرما کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اُس وقت رسول کی اطاعت اسی رنگ میں ہوگی کہ اشاعت و تمکین دین کے لئے نمازیں قائم کی جائیں ، زکوتیں دی جائیں اور خلفاء کی پورے طور پر اطاعت کی جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتی اور زکوۃ کی ادائیگی بھی خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا پھر جب آپ کی وفات ہو گئی اور حضرت ابو بکر خلیفہ ہو گئے تو اہل عرب کے کثیر حصہ نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے