خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 391
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۱ جلد سوم سچے خلفاء کی علامات سورۃ البقرہ آیت ۲۴۸ کی تفسیر میں بچے خلفاء کی علامات کا ذکر اور طالوت کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔پھر جسم کے لحاظ سے بتایا کہ تم لڑائی کرنا چاہتے تھے اس کا جسم بھی خوب مضبوط ہے اور اس کی جسمانی طاقتیں اعلیٰ درجہ کی ہیں۔اس میں ہمت اور استقلال اور ثبات اور شجاعت کا مادہ پایا جاتا ہے پس اس سے زیادہ اور کون موزوں ہو سکتا ہے۔یہ مراد نہیں کہ وہ موٹا تازہ ہے بلکہ مراد ہے کہ مضبوط اور دلیر ہے اور اُس میں قوت برداشت اور قربانی کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ لوگ کہا کرتے ہیں المرُهُ بِأَصْغَرَيْهِ بِقَلْبِهِ وَلِسَانِهِ لعن انسان کی تمام طاقت اس کی دو چھوٹی سی چیزوں پر موقوف ہے ایک دل پر اور ایک اُس کی زبان پر۔اور یہی سچے خلفاء کی علامت ہوتی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ نہ تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ لوگ زکوۃ نہیں دیتے تو جانے دیں اس وقت ان سے جنگ کرنا مسلمانوں کے لئے کمزوری کا باعث ہو گا مگر جب اپنی خلافت کا زمانہ آیا تو کتنے بڑے بڑے کام کئے۔دراصل ہمت و استقلال اور استقامت ایک بہت بڑا نشان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نیچے خلفاء کو عطا کیا جاتا ہے۔“ 66 ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ۵۵۷)