خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 390
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۰ جلد سوم إذا سَأَلَكَ عِبَادِي۔۔۔۔کے تین معانی سورۃ البقرہ کی آیت ۷ ۱۸ و اِذا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ کی تفسیر میں تین باتوں کا ذکر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں :۔وو پھر عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب اِذَا کے بعد ف آتی ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ پہلے کام کے نتیجہ میں فلاں بات پیدا ہوئی۔اس جگہ بھی وَ اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عني فإني قریب کے یہ معنی ہیں کہ جب یہ تین باتیں جمع ہو جائیں یعنی سوال کرنے والے سوال کریں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ضرورت ہے۔پھر تجھ سے سوال کریں فلاسفروں اور سائنس دانوں سے سوال نہ کریں، عیسی یا موسی سے سوال نہ کریں بلکہ تیرے پاس آئیں ، قرآن کے پاس آئیں ، تیرے خلفاء کے پاس آئیں اور پھر وہ میری ذات کے متعلق سوال کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میں اُن کے قریب ہو جاتا ہوں اور انہیں اپنا چہرہ دکھا دیتا ہوں۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ۴۰۱)