خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 352
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۲ جلد سوم پر جب حملہ ہوتا ہے تو باقی سارا حصہ اس کی اذیت کو محسوس کرتا ہے اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ سب کے سب افراد ایک مرکز کی طرف مائل ہیں جو اسلام میں خلیفہ ہوتا ہے جس طرح جسم کے حصے دل کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں تو ان علامتوں کو دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس جماعت میں زندگی کا مادہ پایا جاتا ہے بلکہ اصل زندگی تو ا لگ رہی جو قو میں صداقت سے دور ہیں اور جن میں صرف ایک مصنوعی زندگی پائی جاتی ہے وہ بھی بعض دفعہ بڑی بڑی قربانی کرتی نظر آتی ہیں۔پچھلے دو سال میں دو دفعہ سر آغا خان کراچی آئے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ گلگت سے جو ہزاروں میل دور ہے آغا خانی مذہب کے لوگ چل کر کراچی پہنچے اور آغا خان سے ملے۔اُن میں ایسے طبقہ کے لوگ بھی تھے جو دنیوی لحاظ سے بہت بڑے سمجھے جاتے ہیں۔چنانچہ دو تو نواب ہی تھے جو گلگت سے کراچی آئے۔اس دفعہ بھی ان کے آنے پر میں نے دیکھا ہے کہ اخباروں میں لکھا تھا کہ سینکڑوں میل سے لوگ ان سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔اب آغا خانیوں میں جان تو نہیں ایک انسان کو خدا ماننے والوں یا دنیا میں اسے خدائی کا قائم مقام ماننے والوں میں حقیقی زندگی کہاں ہو سکتی ہے مگر جو سیاسی زندگی ہے وہ ان میں پائی جاتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ہمارے جتھے کی تقویت کا ذریعہ یہی ہے کہ ہم ایک شخص کے پیچھے چلیں اور وہ بعض دفعہ ایسا مظاہرہ بھی کرتے ہیں جس کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ہاتھ پر جمع ہیں گو وہ ہاتھ شل ہی کیوں نہ ہوا ور گو وہ ہاتھ ایسے غلط عقیدہ کے ساتھ وابستہ ہی کیوں نہ ہو جسے انسان کی فطرت کبھی مان نہیں سکتی۔تو زندگی کے آثار میں سے جماعتی احساس بھی ہوتا ہے اور جماعتی احساس کا ثبوت جیسا کہ اسلام نے بتایا ہے ہمیشہ ایک مرکز کے ساتھ تعلق رکھنے کے ذریعہ ملتا ہے۔جب تک مرکز کے ذریعہ وحدت قائم رہتی ہے ترقی ہوتی چلی جاتی ہے اور جب مرکز سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو قو میں گرنے لگ جاتی ہیں۔جیسے پہاڑوں پر چڑھائی مشکل ہوتی ہے لیکن جب لوگ کسی پہاڑ پر چڑھنا چاہیں تو اپنی مدد کے لئے کھڈ سٹک پکڑ لیتے ہیں پھر اور مشکل آئے تو درختوں کی شاخیں پکڑ لیتے ہیں اور زیادہ خطرناک راستے آجائیں تو وہاں واقف کا رلوگ میخیں گاڑ کر ان کے ساتھ رسے باندھ دیتے ہیں تا کہ ان کا سہارا لے کر لوگ اوپر چڑھ سکیں یا جہاں ایسی سے وہ دنیا پر یہ ط