خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 330

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۰ جلد سوم امام کی اطاعت کا ذکر حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے ۳۱ مارچ ۱۹۴۴ء کے خطبہ جمعہ میں فرما یا کہ دین کے لئے مالی اور جانی قربانیوں کا مطالبہ ہمیشہ اور ہر آن ہوتا رہے گا۔خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے والوں کو جلد اپنا نام پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے امام کی اطاعت کے بارہ میں فرمایا۔یہ ایک خطرناک غلطی ہے جو بعض لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم وہ کام کریں گے جو ہماری مرضی کے مطابق ہوگا۔یہ تمہارا کام نہیں کہ تم فیصلہ کرو کہ تمہیں کس کام پر لگایا جائے۔جو شخص تمہارا امام ہے، جس کے ہاتھ میں تم نے اپنا ہاتھ دیا ہے جس کی اطاعت کا تم نے اقرار کیا ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہیں کس کام پر مقرر کیا رو۔جاتا ہے۔تم اس میں دخل نہیں دے سکتے نہ تمہارا کوئی حق ہے کہ تم اس میں دخل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الاِمَامُ جُنَّةٌ يُقْتَلُ مِنْ وَرَائِهِ امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے اور لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کریں۔پس جہاں امام تمہیں کھڑا کرتا ہے وہاں تم کھڑے ہو جاؤ اور امام تمہیں سونے کا حکم دیتا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ تم سو جاؤ۔اگر امام تم کو جاگنے کا حکم دیتا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ تم جاگ پڑو۔اگر امام تم کو اچھا لباس پہنے کا حکم دیتا ہے تو تمہاری نیکی ،تمہارا تقویٰ اور تمہارا زہد یہی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس پہنو اور اگر امام تم کو پھٹے پرانے کپڑے پہننے کا حکم دیتا ہے تو تمہاری نیکی تمہارا تقویٰ اور تمہارا دینی عیش یہی ہے کہ تم پھٹے پرانے کپڑے پہنو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کشفی حالت میں ایک شخص کے ہاتھ میں کسری