خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 329
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۹ جلد سوم ابتدائے خلافت میں قادیان کے غریبوں کی بے نظیر قربانی خطبه جمعه ۱۰ مارچ ۱۹۴۴ء میں حضور فرماتے ہیں :۔ابتدائے خلافت میں جب لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ چند مجاوروں نے جن کا کام روٹیاں کھانا تھا خلافت کو تسلیم کر لیا ہے تو معلوم ہوتا ہے قادیان کے لوگوں کو اس سے ضرور صدمہ ہوا ہوگا کیونکہ انہی دنوں میں میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہے اور کہ رہا ہے کہ :۔”مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں۔پس یہ خلافت کی برکت ہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح قادیان کے غریبوں اور مسکینوں نے ایسی قربانی پیش کی جس کی نظیر اور کسی جماعت میں نہیں مل سکتی۔آج مجھے حیرت ہوئی جبکہ ایک غریب عورت جو تجارت کرتی ہے جس کا سارا سرمایہ سو ڈیڑھ سو روپیہ کا ہے اور جو ہندوؤں سے مسلمان ہوئی ہے صبح ہی میرے پاس آئی ہے اور اس نے دس دس روپیہ کے پانچ نوٹ یہ کہتے ہوئے مجھے دیئے کہ یہ میری طرف سے مسجد مبارک کی توسیع کے لئے ہیں۔میں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ اس عورت کا یہ چندہ اس کے سرمایہ کا آدھایا ثلث ہے مگر اس نے خدا کا گھر بنانے کے لئے اپنا آدھا یا ثلث سرمایہ پیش کر دیا پھر کیوں نہ ہم یقین کریں کہ خدا بھی اپنی اس غریب بندی کا گھر جنت میں بنائے گا اور اسے اپنے انعامات سے حصہ دے گا۔پس اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہم پر ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہر قدم ترقی کے میدان میں بڑھتا چلا جائے گا جتنا کام اس وقت تک ہوا ہے خدا نے کیا ہے اور آگے بھی خدا ہی کرے گا۔( الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۴۴ء )