خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 20
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم میں ہی ہوگی اور دنیا کا ہادی ہندوستان میں آیا ہے اور وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔اب بھی مجھے امید ہے کہ ہمارے بھائی اگر غور کریں تو ٹھوکر سے بچ سکتے ہیں اور اس بات پر غور کر کے اسلام کو ہلاکت سے بچائیں کیونکہ حق کے قبول کرنے میں شرم نہیں ہوتی نہ بزدلی ہوتی ہے۔بزدل وہ شخص ہوتا ہے جو حق کو پا کر قبول نہ کرے اگر وہ ۲۰۔۳۰ سال تک مخالفت کرتے رہے ہیں اور اب ان کی سمجھ میں حق آگیا ہے تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی عیب نہیں۔اب بھی ستی سے کام نہ لیں۔میں اپنے بھائی مسلمانوں اور دیگر اہل وطن کو کہتا ہوں کہ وہ خدا کی آواز کو سنیں۔خدا نے جو ہاتھ بڑھایا ہے اس کو پکڑ لیں۔خدا کے پیغام کو معمولی نہ سمجھیں اور خدا کے ہو کر اور خدا میں ہو کر زندگی بسر کریں۔“ 66 ↓ ال عمران : ۱۵۵ ( خطبات محمود جلد ۸ صفحه ۳۲۴ تا ۳۳۱) RECRUIT: رنگروٹ۔نیا سپاہی ، نیا بھرتی کیا ہوا ، نو آموز ( فیروز اللغات اردو جامع صفحه ۷۲۲ مطبوعہ فیروز سنز لاہور ۲۰۱۰ء) تذکرہ صفحہ ۲۵۰ ایڈیشن چہارم ۲۰۰۴ء میں ”میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں“ کے الفاظ ہیں۔بوس سر جگد لیش چندر (۱۸۵۸ء) - ۱۹۳۷ء) پیدائش را ری خان ضلع ڈھاکہ۔متحدہ بنگال کے مشہور ماہر طبیعات نباتی زندگی پر وسیع تحقیق سے انہیں عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔لندن یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کلکتے کے پریذیڈنسی کالج میں طبیعات کے پروفیسر مقرر ہو گئے بعد میں انہیں کئی ڈگریاں اور اعزاز ملے۔انہوں نے ایک آلہ کر یسکوگراف‘ ایجاد کیا جس سے پودوں کے نشو ونما کو ناپا جاسکتا تھا۔نباتی زندگی کے متعلق ان کی بعض دریافتیں حیرت انگیز ثابت ہوئیں۔کالج سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے نباتات کے بارے میں تحقیق کے