خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 305
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۵ جلد سوم کیا کوئی بھی معقول انسان تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی نوح نے خبر دی، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی ابراہیم نے خبر دی ، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی موسی نے خبر دی ، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی عیسی نے خبر دی ، خدا تعالیٰ کا وہ مسیح جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ، جس کی یاد میں ہزاروں نہیں لاکھوں ائمہ دین اور صلحاء و اولیاء دعائیں کرتے ہوئے اس جہان سے سے گزر گئے۔وہ اس جہان میں آیا اور چلا گیا اور سوائے گمراہی اور ضلالت کے دنیا میں کچھ چھوڑ نہیں گیا۔پس یا تو غیر مبائعین مصری صاحب سے یہ اعلان کروا دیں کہ انہوں نے پیغامیوں کے متعلق جو کچھ لکھا تھا وہ صحیح نہیں تھا اور یہ کہ اب انہیں غور کر نے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ پیغا می ہی حق پر ہیں۔اس صورت میں بے شک ان کا پہلو مضبوط ہو سکتا ہے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس جماعت کو سچائی پر قائم کیا اور جو صحیح معنوں میں آپ کی جماعت کہلا سکتی ہے وہ غیر مبائعین کی ہے۔لیکن جب تک وہ یہ اعلان نہیں کرتے کہ پیغامی حق پر ہیں اُس وقت تک گویا ان کے نزدیک اس وقت روئے زمین پر کوئی جماعت بھی ایسی نہیں جو صداقت اور راستی پر قائم ہو۔کیونکہ غیر مبائعین کی گمراہی کے متعلق ان کا پہلا عقیدہ اب تک قائم ہے اور گمراہی کے متعلق ان کے موجودہ اعلانات موجود ہیں اور ان کی اپنی گمراہی اس طرح ظاہر ہے کہ وہ اپنا سارا زور اس فتنہ کے مٹانے کیلئے صرف کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک بڑا ہے مگر جنہیں خدا اور اس کے رسول نے بڑا فتنہ قرار دیا ہے ان کے استیصال اور اسلام کی اشاعت کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے مبعوث نہیں فرمایا تھا کہ آپ کے ذریعہ پہلے ایک جماعت قائم کرے اور پھر آپ کی وفات کے ساتھ ہی اس میں بگاڑ پیدا کر دے اور کچھ عرصہ کے بعد اس کی اصلاح کے لیے کسی کو کھڑا کر دے۔کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہوا کرتا ہے جو مکان بنائے اور پھر توڑ ڈالے اور توڑنے کے بعد پھر اُسے بنانا شروع کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض صرف یہ تھی کہ آپ دنیا کی اصلاح کریں اور یہی کام ہے جو آپ کی جماعت کے سپرد ہے۔پس جب ہم بھی گمراہ ہیں، جب