خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 304
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۴ جلد سوم مٹانے کیلئے وقف کر دیں مگر وہ فتنے جنہیں خدا اور اس کے رسول نے بڑا قرار دیا ہے ان کو مٹانے کے لئے مصری صاحب کے لئے کسی قسم کی جدو جہد کرنا جائز نہیں۔کیا مصری صاحب کو کبھی آریوں کے خلاف کچھ لکھنے کی بھی توفیق ملی ؟ یا عیسائیوں کے خلاف بھی انہوں نے کچھ لکھا ؟ یا احرار کے متعلق ہی کبھی انہوں نے دو چار مضمون لکھے؟ انہوں نے کبھی آریوں کے خلاف کچھ نہیں لکھا۔انہوں نے کبھی عیسائیوں اور احرار وغیرہ کے خلاف کچھ نہیں لکھا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے ان کے خلاف لکھا تو ان کی جتھہ بندی ٹوٹ جائے گی اور وہ مدد جو انہیں احرار اور پیغامیوں سے مل رہی ہے وہ جاتی رہے گی۔مگر کیا خدا اور رسول کا یہ حق نہیں کہ جن فتنوں کو انہوں نے بڑا قرار دیا ہے انہیں بڑا سمجھا جائے ؟ اور کیا یہ مصری صاحب کو ہی حق حاصل ہے کہ جس فتنہ کو وہ بڑا سمجھیں وہ بڑا بن جائے ؟ قرآن کریم نے دجالی فتنہ کو بہت بڑا فتنہ قرار دیا ہے حتی کہ قرآن کریم میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ قریب ہے اس فتنہ سے آسمان پھٹ جائے زمین تہہ و بالا ہو جائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے دجالی فتنہ سے بڑا فتنہ کوئی نہیں ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے آریوں کے فتنہ کو بہت بڑا فتنہ قرار دیا ہے لیکن وہ کبھی آریوں کے خلاف نہیں لکھتے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر میں نے آریوں کے خلاف کچھ لکھا تو قادیان کے آریوں سے جو مدد مجھے مل رہی ہے وہ بند ہو جائے گی۔اسی طرح وہ کبھی عیسائیوں اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے خلاف نہیں لکھتے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس غرض کے لئے دنیا میں مبعوث فرمائے گئے تھے وہ آج کہیں پوری نہیں ہورہی کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک ہم بھی گمراہ اور مصری صاحب کے نزدیک غیر مبائعین بھی گمراہ اور پھر خود مصری صاحب بھی گمراہ۔کیونکہ ان کی توجہ اس کام کی طرف ہے ہی نہیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث فرمائے گئے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مصری صاحب کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی وفات کے بعد جو کچھ چھوڑا وہ گمراہی ہی گرا ہی تھی جو قادیان میں بھی ظاہر ہوئی ، جو لا ہور میں بھی ظاہر ہوئی اور جو مصری صاحب کے گھر میں بھی ظاہر ہوئی۔