خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 297

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۷ جلد سوم اسی طرح ملک غلام محمد صاحب کے تین جوان لڑکے ان کے ساتھ شامل رہے ہیں۔پھر ڈاکٹر غلام حیدر صاحب بھی انہی لوگوں میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو غیر مبائعین کو کافی چندہ دیتے رہے ہیں۔پس کیا یہ جائز ہو گا کہ یہ لوگ غیر مبائعین کی انجمن کے دفتر میں سے چیزیں اُٹھا کر لے آئیں۔اگر وہ اسے جائز تسلیم نہیں کریں گے تو ان کی یہ دلیل کیونکر معقول سمجھی جاسکتی ہے کہ چونکہ اس ترجمہ قرآن میں ہمارے چندہ کا روپیہ بھی شامل تھا اس لئے اگر ترجمہ ہم اپنے ساتھ لے آئے تو کیا بُرا ہوا۔مجھے یاد ہے مولوی محمد علی صاحب جس وقت ترجمہ قرآن اور کئی ہزاروں روپیہ کا سامان کتب وغیرہ کی شکل میں ساتھ لے کر قادیان سے گئے تو اُس وقت قاضی امیرحسین صاحب مرحوم تو اس قدر جوش کی حالت میں تھے کہ وہ بار بار پنجابی میں کہتے تھے ” نیک بختو ایہہ سلسلہ دامال لے چلیا ہے میں سچ کہنداں ہاں اس نے پھر مڑ کے نہیں آناں“ اور میں انہیں جواب دیتا تھا کہ قاضی صاحب ! اگر یہ لے جاتے ہیں تو لے جانے دیں آپ کو اس موقع پر صبر سے کام لینا چاہئے اور انہیں یہ ترجمہ اور سامان وغیرہ اپنے ساتھ لے جانے سے نہیں روکنا چاہئے کیونکہ اگر ہم نے کہا کہ ترجمہ اور کتا بیں وغیرہ اپنے ساتھ نہ لے جائیں تو یہ ساری دنیا میں شور مچاتے پھریں گے کہ انہوں نے قرآن کریم کے ترجمہ میں روک ڈالی۔پس کتابوں اور ترجمہ وغیرہ کا کیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ چیزیں پھر دے دیگا لیکن اس وقت اگر ہم نے ان کو روکا تو یہ سارے جہاں میں ہمیں یہ کہہ کر بد نام کرتے رہیں گے کہ انہوں نے قرآن کے ترجمہ میں روک ڈالی۔پھر میں نے انہیں وہ مثال دی جو حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک بیوہ عورت تھی مگر تھی بڑی محنتی۔ہمیشہ چرخہ کا تی اور چرخہ کات کات کر گزارہ کرتی۔ایک دفعہ اس نے کئی سال تک محنت مزدوری کرنے اور تھوڑا تھوڑا پیسہ جمع کرنے کے بعد سونے کے کنگن بنوائے اور اپنے ہاتھوں میں پہن لئے۔کچھ دنوں کے بعد اُس کے مکان میں رات کے وقت کوئی چور آ گیا اور اُس نے اُس عورت کو مار پیٹ کر اور ڈرا دھمکا کر اس کے کنگن اُتار لئے اور چھین کر چلا گیا۔وہ کنگن چونکہ اُس عورت نے کئی سال کی محنت مزدوری کے بعد پیسہ پیسہ جمع کر کے بنوائے تھے اس لئے وہ چور اُسے بھولتا نہیں تھا