خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 278
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۸ جلد سوم بات میں اللہ تعالیٰ سے امداد کے طالب رہو گے اُس وقت تک تمہارے کاموں میں برکت رہے گی مگر جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ کام تم نے کیا جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ نتائج تمہاری محنت سے نکلے اور جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ ترقی تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے اُس دن تمہارے کاموں میں سے برکتیں بھی جاتی رہیں گی۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج دنیا میں تم سے بہت زیادہ طاقت ور قو میں موجود ہیں مگر ان سے کوئی نہیں ڈرتا اور تم سے سب لوگ ڈرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمہاری مثال اس تار کی سی ہے جس کے پیچھے بجلی کی طاقت ہوتی ہے اب اگر تار یہ خیال کرے کہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تو یہ اُس کی حماقت ہوگی کیونکہ لوگ تار سے نہیں بلکہ اس بجلی سے ڈرتے ہیں جو اس تار کے پیچھے ہوتی ہے جب تک اس میں بجلی رہتی ہے ایک طاقتور آدمی بھی اگر تار پر ہاتھ رکھے تو وہ اس کے ہاتھ کو جلا دے گی لیکن اگر بجلی نہ رہے تو ایک کمزور انسان بھی اس تارکو توڑ پھوڑ سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھو اور اس بجلی کو اپنے اندر سے نکلنے نہ دو بلکہ اسے بڑھاؤ اور اسے ترقی دو سبھی اور تبھی تم کامیابی کو دیکھ سکتے ہو اور نئی فصل زیادہ شان اور زیادہ عمدگی کیساتھ پیدا کر سکتے ہو۔لیکن اگر یہ بجلی نکل گئی تو پھر تم کچھ بھی نہیں رہو گے۔ہاں اگر یہ بجلی رہی تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور اس صورت میں تمہارا یہ عزم کہ تم اگلے پچاس سال میں تمام دنیا 66 پر چھا جاؤ نا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ کام خدا نے کرنا ہے اور خدا کیلئے کوئی چیز ناممکن نہیں۔“ ( الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۴۰ء ) الفاتحة: ۵ ۳،۲ بخاری کتاب التفسير - تفسير سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبک صفحه ۸۵۶ حدیث نمبر ۲۸۳۶ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية العلق: ۳۲ د بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحي صفحه احدیث نمبر ۳ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية القدر: ۶ متی باب ۸ آیت ۲۰۔پاکستان بائبل سوسائٹی مطبوعہ ۱۹۹۴ء