خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 277
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۷ جلد سوم دینار بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت ہی خوش ہوئے اور آپ نے اس کیلئے دعا فرمائی کہ خدا تجھے برکت دے۔صحابہؓ کہتے ہیں اِس دعا کے نتیجہ میں اسے ایسی برکت ملی کہ اگر وہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتا تو وہ سونا بن جاتی اور لوگ بڑے اصرار سے اپنے روپے اُسے دیتے اور کہتے کہ یہ روپیہ کہیں تجارت میں لگا دو۔غرض کروڑوں کروڑ رو پیدا سے آیا۔تو اچھی طرح خرچ کرنے سے بھی مال بڑھتا ہے۔مال بڑھنے کی صرف یہی صورت نہیں ہوتی کہ ایک کے دو بن جائیں بلکہ اگر تم ایک روپیہ کا کام اٹھنی میں کرتے ہو تو بھی تمہارے دو بن جاتے ہیں بلکہ اگر تم روپیہ کا کام اٹھنی میں کرتے ہوا اور ایک روپیہ زائد بھی کما لیتے ہو تو تمہارے دو نہیں بلکہ چا ر بن جائیں گے پس صرف یہی کوشش نہیں ہونی چاہیے کہ مالی قربانیوں میں زیادتی ہو بلکہ اخراجات میں کفایت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔اور میں کارکنوں کو بالخصوص اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایک روپے کا کام اٹھنی میں کرنے کی کوشش کیا کریں۔غرض اب جو ہمارے پاس جماعت موجود ہے، اب جو ہمارے پاس روپیہ ہے ، اب جو ہمارے پاس تبلیغی سامان ہے ، اب جو ہمارے دنیا میں مشن قائم ہیں ،اب جو ہماری تعلیم اور اب جو ہماری تربیت ہے ان سب کو نیا بینچ تصور کر کے آئندہ پچاس سال میں ہمیں جماعت کی ترقی کیلئے سرگرم جد و جہد کرنی چاہئے تا کہ آئندہ پچاس سال میں موجودہ حالت سے ہماری تعداد بھی بڑھ جائے ، ہمارا علم بھی بڑھ جائے ، ہماری تبلیغ بھی بڑھ جائے اور اسی نسبت سے بڑھے جس نسبت سے وہ پہلے پچاس سال میں بڑھا۔اگر ہم اس رنگ میں کوشش نہیں کریں گے تو اس وقت تک ہماری نئی فصل کبھی کامیاب نہیں کہلا سکتی۔مگر یہ کام ویسا ہی ناممکن ہے جیسے آج سے پچاس سال پہلے نظر آتا تھا۔پھر اُس وقت خدا کا ایک نبی کھڑا تھا۔بے شک اُس وقت کوئی احمدی نہ تھا مگر خدا کا نبی دنیا میں موجود تھا جو اس پیغام کو لے کر دنیا میں کھڑا تھا مگر آج وہ نبی ہم میں موجود نہیں اور اس وجہ سے ہماری آواز میں وہ شوکت نہیں جو اُس کی آواز میں شوکت تھی۔پس آج ہمیں اس سے زیادہ آواز بلند کرنا پڑے گی اور ہمیں اس سے زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اس کیلئے دعائیں بھی کرو اور اللہ تعالیٰ کے دروازہ کو کھٹکھٹاؤ اور یا د رکھو کہ جب تک جماعت دعاؤں پر یقین رکھے گی ، جب تک تم ہر