خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 187
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۷ جلد سوم پس اس روشنی کو دُور تک پہنچانے کیلئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کیلئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے ایک ری فلیکر ایجاد کیا جس کا نام خلافت رکھا۔نبی کی روشنی اس ری فلیکٹر کے ذریعہ سے دور تک پہنچا دی جاتی ہے۔پرانے زمانہ کے طریق کے مطابق اس کا نام طاق رکھا گیا۔جو تین طرف سے روشنی کو روک کر صرف اُس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اُس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح خلیفہ نبی کی قوت قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہو رہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پروگرام کے ما تحت استعمال کرتا ہے اور جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔اگر خلافت نہ ہوتی تو بعض کا موں پر زیادہ طاقت خرچ ہو جاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شقاق کی وجہ سے کسی نظام کے ماتحت جماعت کا رو پیدا اور اس کا علم اور اس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔غرض خلافت کے ذریعہ سے الہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے دنیا کے لحاظ سے مکمل ہوا تھا ممتد اور لمبا کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ محمدی نور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گیا بلکہ ابو بکر کی خلافت کے طاقچہ کے ذریعہ اس کی مدت کو تین سال اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد وہی نور خلافت عمر کے طاق کے اندر رکھ دیا گیا اور سات سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر وہ نور عثمانی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور تیرہ سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت عثمان کی وفات کے بعد وہی نور علوی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور وہ چھ سال اور اس نور کو لے گیا۔گویا چھپیں تمہیں سال محمدی نور خلافت کے ذریعہ لمبا ہو گیا۔جیسے ٹارچوں کے اندر ری فلیکٹر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بلب کی روشنی دور دور تک پھیل جاتی ہے یا چھوٹے چھوٹے ری فلیکر بعض دفعہ تھوڑا سا خم دے کر بنائے جاتے ہیں۔جیسے دیوار گیروں کے پیچھے ایک ٹین لگا ہوا ہوتا ہے جو دیوار گیر شے کا ری فلیکٹر کہلاتا ہے اور گو اس کے ذریعہ روشنی اتنی تیز نہیں ہوتی جتنی ٹارچ کے ری فلیکٹر کے ذریعہ تیز ہوتی ہے مگر پھر بھی دیوار گیر کی روشنی اس ری فلیکٹر کی وجہ سے پہلے سے بہت بڑھ