خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 183
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۳ جلد سوم ہے اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال کیا ہے؟ گمشکوۃ اُس کے نور کی مثال ایک طاقچے کی سی ہے۔فيها مصباح۔جس میں ایک بنتی رکھی ہوئی ہو۔المصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ۔اور وہ بنی ایک شیشہ یا چمنی میں ہو۔الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَب دري اور وہ چمنی یا گلوب ایسے اعلیٰ درجہ کے شیشے کا بنا ہوا ہو اور ایسا روشن ہو کہ گویا وہ ایک ستارہ ہے جو چمک رہا ہے۔اس کے بعد تُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُبرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ میں اس کی تفصیل بتائی ہے۔مگر ابھی میں اس کی تفصیل کی طرف نہیں جاتا اور جو مضمون کا اصل حصہ ہے وہ میں بیان کرتا ہوں۔اس موقع پر حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا کسی دوست کے پاس ٹارچ ہے؟ مگر ٹارچ نہ ملی۔اس کے بعد فرمایا )۔ان آیات میں در حقیقت اللہ تعالیٰ کے نور کو تین چیزوں میں محصور قرار دیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کمال نور ہمیشہ تین ذرائع سے ہوتا ہے۔ایک مشکوۃ سے، ایک مصباح سے اور ایک زجاجہ سے۔یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے دی اور بتایا کہ ہمارا نور جو دنیا میں کامل طور پر ظاہر ہوا اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک طاقچہ میں ایک بنی ہوا ور بتی پر گلوب یا چمنی ہوا ور وہ گلوب اتنا روشن ہو کہ گویا وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ہمارے ملک میں چونکہ عام طور پر اس قسم کے لیمپوں کا رواج نہیں اس لئے میں نے چاہا تھا کہ ٹارچ کے ذریعہ آپ لوگوں کو یہ مضمون سمجھاؤں کیونکہ ٹارچ میں یہ تینوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔اور یہ عجیب بات ہے کہ قرآن مجید با وجودیکہ ایسے زمانہ میں نازل ہوا جبکہ سائنس ابھی کمال کو نہیں پہنچی تھی اور ایسے ملک میں نازل ہوا جہاں کے لوگ بدو سمجھے جاتے تھے اور تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھے اور ایسے انسان پر نازل ہوا جو اُمّی تھا پھر بھی روشنی کے کمال کو جس عجیب طرز سے ان آیات میں بیان کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بیسویں صدی کا انجینئر روشنی کی حقیقت بیان کر رہا ہے۔مشکوۃ جس طرح اُس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوار میں بنایا جاتا ہے اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا اسی طرح مصباح اُس شعلہ کو کہتے ہیں جو بتی میں سے نکلتا ہے یا بلب کی وہ تاریں سمجھ لو جن سے بجلی کی روشنی پیدا ہوتی ہے بشرطیکہ وہ روشن ہوں۔مصباح کے معنے دراصل '' صبح کر دینے کا آلہ کے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ہر ,,