خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 164

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۴ جلد سوم پتہ تھا اور نہ اس کا کوئی وہم و گمان ہو سکتا تھا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا الہام ہے جسے حضور نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی کاپی میں درج فرمایا۔پندرہ سولہ سال کے بچہ کو ان باتوں کا علم ہی کیا ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت میری عمر انیس سال کی تھی اور یہ دو تین سال پہلے کا الہام ہے جبکہ میری عمر زیادہ سے زیادہ سترہ سال کی ہو گی۔اُس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ کبھی میرے متبع ہوں گے اور پھر میرے منکر بھی ہوں گے۔پھر اگر متبع ہوں تو منکروں کا ہونا تو ضروری نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اول کی بیعت سب نے کر لی تھی صرف دو تین آدمی رہ گئے تھے مگر وہ بھی کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔حضور کی وفات کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم نے بیعت نہیں کی تھی مگر لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ بیعت میں شامل ہیں اور ایسا ہی پھر بھی ہو سکتا تھا یعنی اگر میرے متبع ہوتے تو منکر نہ ہوتے۔پھر میری خلافت کے خلاف تو حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ایجی ٹیشن شروع ہو گئی تھی۔اُس وقت جو لوگ صاحب کا ر اور صاحب تدبیر تھے وہ ہمیشہ میرے خلاف جماعت کو اُکساتے رہتے تھے اور پھر دوسری طرف حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے بدظن کرنے کی کوششیں کرتے رہتے تھے۔وہ جماعت کو تو کہتے تھے کہ یہ غلو کرتا ہے، کفر و اسلام کا مسئلہ چھیڑ کر جماعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور حضرت خلیفہ اول کو عجیب تدبیروں سے مجھ سے ناراض کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔یہ دو ہی ذریعے میری خلافت کے ممکن تھے یعنی یا تو جماعت منتخب کرتی اور یا پھر حضرت خلیفہ اول نامزد کرتے۔اور یہ لوگ دونوں رستے بند کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔حضرت خلیفہ اول جب پہلی بار بیمار ہوئے تو آپ نے اپنی وصیت میں تحریر فرما دیا تھا کہ میرے بعد محمود خلیفہ ہو مگر بعد میں مخالفتوں کو دیکھ کر آ وہ وصیت پھاڑ دی۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ خیال کیا کہ اگر میں نے یہ لکھ دیا تو مخالفت کر نیوالے اسے میرا بنایا ہوا خلیفہ کہیں گے اور خلافت کا امر مشتبہ ہو جائے گا ، اللہ تعالیٰ جسے چا ہے بنا دے۔حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے جس رنگ میں بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی تھی میں اس کی ایک مثال سناتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول اُس کمرہ میں رہا کرتے تھے جہاں اب