خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 163
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۳ جلد سوم خدا تعالیٰ نے دنیا میں تم کو چھوڑا اور کہا ہے کہ یہ میری نشانیاں ہیں۔جو ان پر ہاتھ اُٹھائے گا وہ مجھ پر ہاتھ اُٹھانے والا سمجھا جائے گا۔پس تم کو خدا تعالیٰ نے اپنی طاقت کی آزمائش کیلئے بھیجا ہے نہ کہ تمہاری طاقت کے اظہار کیلئے۔ذرا سوچو کہ بکرے کی کیا طاقت ہوتی ہے۔اگر وہ خود سینگ مارنے لگے تو لوگ اُس پر ہنسی کریں گے۔لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ اُس بکرے کے پیچھے بادشاہ کی طاقت ہے اور جس طرح بادشاہ کا بکرا اپنے سینگ مار کر اپنی ہلاکت خریدتا ہے اسی طرح تمہارا حال ہے۔کیا تم کو خدا تعالیٰ پر یقین نہیں کہ تم اپنی تدبیروں سے کامیابی کی کوشش کرو۔جو لوگ کامیابی اپنی تدبیروں سے سمجھتے ہیں وہ سوچیں تو سہی کہ ہماری طاقت کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پس تم اُسی کی طاقت پر بھروسہ رکھو اور اپنی تدبیروں کو دماغ سے نکال دو۔مومن وہ ہے جو ہر ابتلاء سے بچتا ہے اور جسے دنیا کی کوئی طاقت اپنی طرف نہیں پھیر سکتی۔موجودہ فتنہ جو ہے اس گند کے دو ہی نتیجے ہو سکتے ہیں۔جن لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقویٰ ہے اُن پر تو اس کا کچھ اثر ہو نہیں سکتا اور ایسے لوگوں کو کیا صدمہ ہوسکتا ہے اور جن پر اثر ہوتا ہے وہ ازلی را ندے ہوئے لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ سلسلہ سے الگ کر دے اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو کون بچا سکتا ہے۔انہیں تو نہ میں بچا سکتا ہوں اور نہ تم نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچا سکتے تھے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔جس کے دل پر موت وارد کرنے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرلے اسے کون بچا سکتا ہے۔ہدایت دینا اور پھر ابتلاؤں سے بچانا اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط بنالیں اور ایسے مقام پر کھڑے ہوں کہ اس کے فضل سے ہمارے ایمان پر کوئی چھاپہ نہ مار سکے۔جب کوئی شخص اپنے ایمان کو حملہ سے بچا لیتا ہے تو پھر فرشتے خود بخود اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ میں پندرہ سولہ سال کا تھا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام کیا که إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ یعنی میں تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔یہ الہام اُس وقت کا ہے جب مجھے نہ خلافت کا