خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 148
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۸ جلد سوم شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی طرف سے انکسار کا جھوٹا دعویٰ خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۷ء میں شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔ان لوگوں کی طرف سے ایک دستی اشتہار آج ہی مجھے دفتر نے بھیجا ہے جس میں مصری صاحب کی امارت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ہمیں اس سے خوشی ہے کیونکہ جو شخص جماعت میں تفرقہ پیدا کرے اسے خدا تعالیٰ خود سزا دیتا ہے۔اور یہ اعلان کر کے انہوں نے اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ الہی سزا کے مستحق ہو گئے ہیں۔اس اعلانِ امارت کے ساتھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی سزا کو کھینچا ہے دور نہیں کیا۔۔اسی اشتہار میں ان کی پارٹی کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ دیکھو! ہمیں مرتد ، منافق ، فاسق وغیرہ الفاظ سے پکارا جاتا ہے، ایسا نہ کیا جائے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے تو انہیں ان ناموں سے نہیں پکا را بلکہ ہمارے آدمیوں نے تو صرف اُن کی اپنی باتیں دُہرائی ہیں۔پکارنے والا تو ابتدا کرنے والا ہوتا ہے۔انہوں نے مجھے مرتد قرار دیا، معزول کرنے کے لائق کہا حالانکہ میں تو خلیفہ ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جب تک تم اپنے دُنیوی بادشاہ میں کفر بواح نہ دیکھو اس کی اطاعت کرویے اللہ تعالیٰ خود اسے سزا دے گا اور اس لحاظ سے مصری صاحب نے گویا یہ کہا ہے کہ مجھ میں کفر بواح یعنی کھلا کھلا پایا جاتا ہے۔باقی رہا فتنہ پرداز کہنا ، سو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اپنے پہلے خط میں ہی انہوں نے مجھے فتنہ پرداز کہا ہے اور پھر فتبينوا والی آیت مجھ پر چسپاں کر کے مجھے فاسق