خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 109

خلافة على منهاج النبوة 1+9 جلد سوم حضرت مرزا صاحب کو کچھ نہ کچھ سزا دے دوں گا۔وہ احمدی وکیل گھبرائے ہوئے گورداسپور آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اُن دنوں گورداسپور میں ہی تھے میں وہاں موجود نہیں تھا لیکن جو دوست وہاں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب اُس دوست نے آکر ذکر کیا کہ حضور! ہمیں کوئی فکر کرنا چاہئے اس مجسٹریٹ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ کو ضرور سزا دے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔آخر انہوں نے دوبارہ اور سہ بارہ یہی بات دہرائی اور کچھ اور دوست بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور سب نے کہا کہ اب ضرور کوئی فکر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے جب متواتر یہ بات سنی تو آپ نے چار پائی سے سر اُٹھایا اور لیٹے لیٹے کہنی پر ٹیک دے کر بڑے جلال سے فرمایا وہ مجسٹریٹ ہوتا کیا چیز ہے وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔پس کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ ہو تو یہ مجسٹریٹ اور افسر اور پولیس کے آدمی تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ کبھی نہیں۔ہاں تمہیں اُس تعلیم پر عمل کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کے مامور نے تمہیں دی اور جو یہ ہے کہ گالیاں سن کر دعا دو پا کے دُکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار اور جو تعلیم قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے دی ہے کہ جب کسی مجلس میں خدا اور اُس کے رسول کو گالیاں دی جاتی ہوں تو وہاں سے اُٹھ کر چلے آؤ اور بے غیرت مت بنو۔مگر تمہاری غیرت کا یہ حال ہے کہ ادھر ہم منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُن کے جلسہ میں کوئی نہ جائے اور اُدھر تم میں سے کوئی کونوں میں چھپ کر ان کی تقریر میں سنتا ہے ، کوئی کسی ہمسایہ کے مکان پر چڑھ کر وہاں سے تقریر میں سنتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں یہ گد گدی اُٹھ رہی ہوتی ہے کہ کسی طرح جائیں اور گالیاں سنیں۔کیا تم نے کبھی مجھے بھی دیکھا کہ میں ان جلسوں میں گیا ہوں؟ پھر کیا تمہارے سینہ میں ہی دل ہے میرے سینہ میں نہیں۔پھر تم کو کیوں شوق آتا ہے کہ جاؤ اور گالیاں سنو۔اسی وجہ سے کہ تمہارے دلوں میں غیرت نہیں اور