خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 108

خلافة على منهاج النبوة 1+A جلد سوم تھے اور یہ تھوڑے۔اگر اکثریت سے ڈر کر تھپڑ کھا لیا ہے تو یہ کوئی خوبی نہیں۔پس وہ تمہارے صبر کو بُزدلی پر محمول کریں گے اور تمہاری خاموشی کو کمزوری کا نتیجہ قرار دیں گے۔پس تمہارا گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنا بالکل بے سود ہے اور مجھے تمہاری مثال ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے پہلے زمانہ میں جب یہ معلوم نہ تھا کہ کشمیری فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں۔ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی اور حکومت انگریزی نے مہا راجہ صاحب جموں سے کہا کہ اپنی فوج میں سے ایک دستہ ہماری فوج کے ساتھ روانہ کر دیں۔اُنہوں نے ایک کشمیری دستہ کو تیار ہو جانے کا حکم دے دیا جب وہ تیار ہو گئے تو کشمیری افسر ایک وفد کی صورت میں مہا راجہ صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے اتنی مدت تک آپ کا نمک کھایا ہے ہمیں لڑائی سے ہر گز انکار نہیں، ہم ہر وقت جانے کیلئے تیار ہیں صرف ایک ہماری عاجزانہ التماس ہے اور وہ یہ کہ سُنا ہے پٹھان سخت وحشی ہوتے ہیں آپ ہمارے ساتھ کچھ سپاہی کر دیں جو ہماری جانوں کی حفاظت کریں۔تم بھی خدا کے سپاہی کہلاتے ہومگر انگریزی سپاہیوں کے پہرے میں کام کرنا چاہتے ہو۔پھر تم سے زیادہ بے غیرت اور کون ہوسکتا ہے۔اس وقت تم سب اس مثال کے سننے پر ہنس پڑے ہو مگر کیا تمہاری بھی یہی حالت نہیں ؟ تم کہتے ہو دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں مگر انگریزی سپاہیوں کی حفاظت میں۔اگر واقعہ میں تم خدا تعالیٰ کے سپاہی ہو اور اُس کے دشمن کے مقابل پر کھڑے ہو تو پھر تمہیں کسی حفاظت کی ضرورت ہی کیا ہے۔تم میرے بتائے ہوئے طریق کے ماتحت صبر اور شکر کرو پھر خدا تعالیٰ کے سپاہی آپ تمہاری مدد کیلئے آسمان سے اُتریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک دفعہ ایک مقدمہ ہوا۔جس مجسٹریٹ کے پاس وہ مقدمہ تھا اُس پر لاہور کے بعض آریوں نے سخت زور ڈالا کہ جس طرح بھی ہو سکے تم کسی نہ کسی طرح مرزا صاحب کو سزا دے دو اور اِس قدر اصرار کیا کہ آخر اس نے وعدہ کر لیا کہ میں کچھ نہ کچھ سزا انہیں ضرور دے دوں گا۔ایک ہندو دوست جو اس مجلس میں موجود تھے انہوں نے یہ تمام حالات ایک احمدی وکیل کے پاس بیان کئے اور کہا کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا آریوں نے بہت اصرار کیا اور آخر مجسٹریٹ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں ضرور