خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 95
خلافة على منهاج النبوة ۹۵ جلد سوم نتیجہ یہ ہوا کہ رسالت پر ایمان بھی جاتا رہا۔انہوں نے خیال کر لیا کہ نظام کی ضرورت پر دینے کی کیا ضرورت ہے سب کو معلوم ہی ہے کہ نظام میں سب برکت ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا نظام بھی ٹوٹ گیا۔انہوں نے خیال کر لیا کہ نماز اور روزہ کی تاکید کرنے کی بار بار کیا ضرورت ہے سب لوگ نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہی ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ نمازوں میں بھی سستی آگئی اور روزے بھی ہاتھ سے جاتے رہے۔اسی طرح انہوں نے خیال کر لیا کہ حج کا مسئلہ بھی کوئی ایسا مسئلہ ہے جس سے کوئی نا واقف ہو اور نتیجہ یہ ہوا کہ حج کے مسائل بھی لوگوں کے ذہن سے اُتر گئے اور استطاعت کے باوجود انہوں نے حج کرنا چھوڑ دیا۔تو جب کسی قوم کے علماء یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں فلاں مسائل لوگ جانتے ہی ہیں اس قوم میں آہستہ آہستہ ان مسائل سے نا واقفیت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور آخر اس نیکی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں ایک حد تک اس کی ذمہ داری جماعت کے علماء پر ہے لیکن ایک حد تک اس کی ذمہ داری جماعت کے افراد پر بھی ہے۔کیونکہ ان کے سامنے یہ مسائل بالکل تازہ ہیں اور وہ خلافت کی اہمیت سے پورے طور پر آگاہ کئے جاچکے ہیں اور گو آج اس پر بحثیں نہیں ہوتیں مگر آج سے ہیں سال پہلے اس پر خوب بخشیں ہو چکی ہیں اور خود جماعت کے افراد اس میں حصہ لیتے رہے ہیں۔پھر آج وہ ان مسائل کو کیوں بھول گئے۔میں نے اس امر کی طرف توجہ ان واقعات کی وجہ سے دلائی تھی جو قادیان میں حال ہی میں ظاہر ہوئے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ فتنہ و فساد کی نیت سے کوئی بات چھیڑ دیتے ہیں اور ہماری جماعت کے دوست فورا اس کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ دشمن کی تو غرض ہی یہ تھی کہ وہ کوئی فتنہ و فساد پیدا کرے اور انہیں زیر الزام لائے۔ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جس کا دشمن اس کیلئے گڑھا کھودتا اور اُس پر گھاس پھونس ڈال دیتا ہے اور وہ اپنی بیوقوفی سے گھاس پر پاؤں رکھتا اور گڑھے میں جا پڑتا ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں خیالی مثال کی کیا ضرورت ہے شیر کے شکاریوں کی مثال لے لو جو پہلے زمانہ میں شیر کا شکار اس طرح کرتے تھے کہ گھاس کے نیچے بانس کی کھپچیوں کے اوپر خاص طور پر سریش تیار