خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 464
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۴ جلد دوم مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص نے کسی کی بیعت کی تو نہ بیعت کرنے والے کی بیعت ہوگی اور نہ وہ شخص جس کی بیعت کی گئی ہے وہ خلیفہ ہو جائے گا بلکہ دونوں اس بات کا خطرہ محسوس کریں گے کہ سب مسلمان مل کر ان کا مقابلہ کریں اور انکا کیا کرایا اکارت ہو جائے گا۔حالانکہ ابو بکر کی بیعت صرف اس خطرہ سے کی گئی تھی کہ مہاجرین اور انصار میں فتنہ پیدا نہ ہو جائے مگر اس کو خدا تعالیٰ نے قائم کر دیا۔پس وہ خدا کا فعل تھا نہ کہ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کوئی ایک دو شخص مل کر کسی کو خلیفہ بنا سکتے ہیں۔پھر علامہ رشید رضا نے احادیث اور اقوال فقہاء سے اپنی کتاب ”الخلافہ “ میں لکھا ہے کہ خلیفہ وہی ہوتا ہے جس کو مسلمان مشورہ سے اور کثرتِ رائے سے مقرر کریں۔مگر آگے چل کر وہ علامہ سعد الدین تفتازانی مصنف شرح المقاصد اور علامہ نووی وغیرہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کا جمع ہونا وقت پر مشکل ہوتا ہے۔پس اگر جماعت کے چند بڑے آدمی جن کا جماعت میں رسوخ ہو کسی آدمی کی خلافت کا فیصلہ کریں اور لوگ اس کے پیچھے چل پڑیں تو ایسے لوگوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور سب مسلمانوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور یہ ضروری نہیں ہوگا کہ دنیا کے سب مسلمان اکٹھے ہوں اور پھر فیصلہ کر یں۔اسی بناء پر میں نے خلافت کے متعلق مذکورہ بالا قاعدہ بنایا ہے جس پر پچھلے علماء بھی متفق ہیں۔محد ثین بھی اور خلفاء بھی متفق ہیں۔پس وہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ خلفائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور صحابہ کرام کا ہے اور تمام علمائے امت کا ہے جن میں حنفی شافعی وہابی سب شامل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بڑے آدمی سے مراد یہ ہے کہ جو بڑے بڑے کاموں پر مقرر ہوں جیسے ہمارے ناظر ہیں اور وکیل ہیں۔اور قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی مومنوں کی جماعت کو مخاطب کیا گیا ہے وہاں مراد ایسے ہی لوگوں کی جماعت ہے نہ کہ ہر فرد بشر۔یہ علامہ رشید کا قول ہے کہ وہاں بھی یہ مراد نہیں کہ ہر فرد بشر بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے آدمی۔شام پس صحابہؓ ، احادیث رسول اور فقہائے امت اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت مسلمانوں کے اتفاق سے ہوتی ہے مگر یہ نہیں کہ ہر مسلمان کے اتفاق سے بلکہ ان مسلمانوں کے اتفاق سے جو مسلمانوں میں بڑا عہدہ رکھتے ہوں یا رسوخ رکھتے ہوں اور اگر ان لوگوں کے سوا چند