خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 449
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۹ جلد دوم جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں میں ثابت کر چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایمان بالخلافتہ قائم رہا اور خلافت کے قیام کے لئے تمہاری کوشش جاری رہی تو میرا وعدہ ہے کہ تم میں سے ( یعنی مومنوں میں سے اور تمہاری جماعت میں سے ) میں خلیفہ بنا تا رہوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے متعلق احادیث میں تصریح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔مَا كَانَتْ نُبُوَّةً قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ " کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے اور میرے بعد بھی خلافت ہو گی اس کے بعد ظالم حکومت ہوگی پھر جابر حکومت ہوگی یعنی غیر قو میں آ کر مسلمانوں پر حکومت کریں گی جو زبر دستی مسلمانوں سے حکومت چھین لیں گی۔اس کے بعد فر ماتے ہیں کہ پھر خلافت على مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ہو گی یعنی جیسے نبیوں کے بعد خلافت ہوتی ہے ویسی ہی خلافت پھر جاری کر دی جائے گی۔سے نبیوں کے بعد خلافت کا ذکر قرآن کریم میں دو جگہ آتا ہے۔ایک تو یہ ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خلافت اس طرح دی کہ کچھ ان میں سے موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی بنائے اور کچھ اُن میں سے بادشاہ بنائے۔اب نبی اور بادشاہ بنانا تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہمارے اختیار میں نہیں لیکن جو تیسرا امر خلافت کا ہے اور اس حیثیت سے کہ خدا تعالیٰ بندوں سے کام لیتا ہے ہمارے اختیار میں ہے چنانچہ عیسائی اس کے لئے انتخاب کرتے ہیں اور اپنے میں سے ایک شخص کو بڑا مذہبی لیڈر بنا لیتے ہیں جس کا نام وہ پوپ رکھتے ہیں۔گو پوپ اور پوپ کے متبعین اب خراب ہو گئے ہیں مگر اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ پھر اُن سے مشابہت کیوں دی ؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قبلهم جس طرح پہلے لوگوں کو میں نے خلیفہ بنایا تھا اسی طرح میں تمہیں خلیفہ بناؤں گا یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں خلافت قائم کی گئی تھی۔اُسی طرح تمہارے اندر بھی اس حصہ میں جو موسوی سلسلہ کے مشابہ ہو گا میں خلافت قائم کروں گا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت براہ راست چلے گی پھر جب مسیح موعود آ جائے گا تو جس طرح مسیح ناصری کے سلسلہ میں