خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 429
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۹ جلد دوم نے ذرا آگے آکر ذرا آہستہ آواز میں دایاں ہاتھ اُٹھا کر میرے سینہ کے برابر کر کے کہا د و تسلی رکھو جدے جاواں گے تہانوں نالے لے جاواں گے“۔اُس وقت میں نے بہتیر از ور لگایا مگر مجھے اس مہمل بات کی سمجھ نہ آئی جو متواتر میرے دل میں چھتی رہی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان میں وجہ نہیں بتلا سکتا کہ کیوں میرا اُنس و کشش و محبت ان سے دن بدن کم ہوتی گئی حتی کہ جب اماں جی کی وفات ہوئی ڈاک خانہ کے پاس کھڑے کھڑے ہی میں نے منان سے اظہار افسوس کیا اور ان کے مکان تک بھی نہ گیا۔نوبت بایں جا رسید والا معاملہ ہوا کہ جب دو دفعہ منان صاحب میرے سامنے آئے تو میں نے السَّلَامُ عَلَيْكُمُ بھی ان سے نہیں کی۔میں نہیں بتلا سکتا کہ کون سی غیبی طاقت اندر ہی اندر کام کر رہی تھی جب میں نے یہ فتنہ پڑھا تو ہر پر چہ الفضل کو اوّل سے آخر تک پڑھتا رہا اور خاص توجہ اس طرف تھی کہ منان صاحب کا بھی کہیں ذکر ہے حتی کہ ان کے خیالات کے متعلق اطلاع آمدہ امریکہ سے میرا وہ پرانا معمہ حل ہوا کہ جدے جاواں گے تہانوں نال لے جاواں گے“ کا کیا مدعا تھا۔اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر تحریر کرتا ہوں کہ اس میں ذرہ بھر بھی جھوٹ نہیں۔نوٹ میں نے اس کا ذکر بہت دن ہوئے محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب سے کیا تھا۔والسلام خاکسار حضور کا ادنی خادم صاحب خان نون مولوی محمد احمد صاحب کی شہادت اسی طرح مولوی محمد احمد صاحب جلیل کی شہادت ہے کہ :۔ا۔چند سال قبل جب میاں عبدالمنان صاحب جامعہ احمدیہ میں پڑھایا کرتے تھے میں کسی کام کی غرض سے انہیں ملنے کیلئے اُن کے مکان پر گیا دورانِ گفتگو میں انہوں نے اپنے جامعہ میں تقرر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس Regime میں ہمارے لئے یا یہ کہا کہ میرے لئے ) کوئی جگہ نہیں یہ پہلا موقع تھا کہ میری طبیعت پر ان کے متعلق یہ اثر