خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 26
خلافة على منهاج النبوة ۲۶ جلد دوم جاؤ۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور دورانِ گفتگو میں حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا کہ پہلے یہ آنحضرت ﷺ کے پاس گئے تھے مگر وہاں منافق یہ کہہ کر آیا ہے کہ حضرت عمرؓ سے ہم فیصلہ کرا لیں گے۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا۔ذرا ٹھہرو، میں ابھی آتا ہوں گھر گئے اور تلوار لا کر اُس شخص کی گردن اُڑا دی تے اُس کے رشتہ دار رسول کریم ﷺ کے پاس شکایت لیکر گئے۔آپ نے فرمایا میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ عمر مومنوں کی گردنیں کاٹتا پھرتا ہے۔مگر آپ نے حضرت عمر کو بلا کر دریافت فرمایا۔تو انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔مجھے معلوم ہوا تھا کہ یہ شخص اس طرح آپ کو کہہ کر گیا ہے اس لئے میں نے مار دیا کہ جو شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے عمر پر زیادہ اعتبار کرتا ہے اُس کی سزا یہی ہے۔بیشک حضرت عمرؓ کا یہ فعل درست نہ تھا ، ہماری شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی لیکن جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم اللہ اُن کے اس فعل کو نا پسند فر مایا ، وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کے اصل کو تسلیم کیا کہ ایسا کہنے والا مومن نہیں کہلا سکتا اور فرمایا۔فلا وربك لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ " ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ کوقتل کا فعل درست نہیں مگر یہ بھی درست نہیں کہ وہ شخص مومن تھا اور عمر نے مومن کو قتل کیا۔جو شخص تیرے فیصلہ کو نہیں مانتا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز مومن نہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک فاسق کو مارا تھا۔پس جب آنحضرت ﷺ خود فرماتے ہیں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ سے غلطی کس طرح ناممکن ہے۔مگر پھر بھی اس کے فیصلہ کو شرح صدر کے ساتھ مانا ضروری ہے۔اس اصل کو بھلا دو تو تمہارے اندر بھی تفرقہ اور تنفر پیدا ہو جائے گا۔اسے مٹا دو اور لوگوں کو کہنے دو کہ خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے تو تم بھی پراگندہ بھیڑوں کی طرح ہو جاؤ گے جن کو بھیڑیئے اُٹھا کر لے جائیں گے اور دنیا کی لعنتیں تم پر پڑیں گی۔جسے خدا نے عزت دی ہے، تمہارے لئے اس کی عیب جوئی جائز نہیں۔اگر وہ غلطی بھی کرتا ہے اور اُس کی غلطی سے تمہیں نقصان پہنچتا ہے تو تم صبر کرو۔خدا دوسرے ذریعہ سے تمہیں اس کا اجر دے گا اور اگر وہ گندہ ہو گیا ہے تو جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح فرماتے ہیں ، تم خدا کے آگے اس کا معاملہ پیش کرو۔وہ اگر تم کو حق پر دیکھے گا اُسے خود موت |