خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 401
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۱ جلد دوم خط میرے پاس محفوظ نہیں رہا۔شاید قادیان میں ہی رہ گیا ہے۔ستمبر ۱۹۳۰ء میں پیغامیوں کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ ناصر احمد کو ولی عہد مقرر کرنے کا پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔19 ۱۹۵۶ء کی مجلس مشاورت کے وقت بھی یہی بات میاں عبدالمنان نے کہی۔چنانچہ چوہدری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ وامیر جماعت احمد یہ شیخو پورہ تحریر کرتے ہیں کہ :۔د گزشته مشاورت کے موقع پر مجھے میاں عبد الرحیم احمد کے مکان پر رہنے کا اتفاق ہوا۔شیخ بشیر احمد صاحب، ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب بھی وہیں مقیم تھے۔میاں عبدالمنان اکثر اس مکان پر رہتے تھے اور ناشتہ اور کھانے کے وقت بھی وہیں ہوتے تھے۔میں مشاورت کی مالی سب کمیٹی کا ممبر تھا اور میاں عبدالمنان بھی اس سب کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوتے تھے اس اجلاس میں میں اور مولوی عبد المنان اکٹھے ہی گئے رستہ میں میاں عبدالمنان نے کہا کہ لاکھوں کا بجٹ مالی سب کمیٹی کے سامنے رکھا ہی نہیں جاتا اس کا حساب کتاب جماعت کے سامنے لایا ہی نہیں جاتا۔میری دریافت پر میاں عبدالمنان نے کہا کہ یہ جماعتی کاروبار یا تجارت کے متعلق ہے میں اس پر چوکس ہوا۔مالی سب کمیٹی کا اجلاس آدھی رات کے قریب ختم ہوا اور واپس ہوئے غالباً دوسرے دن دو پہر کے وقت میاں عبدالمنان نے پھر ایسی ہی گفتگو شروع کی اور کہا کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو کیا معلوم کہ یہاں کیا ہورہا ہے۔یہاں سخت پارٹی بازی ہے۔پھر مکرم میاں ناصر احمد صاحب کے متعلق ولی عہد کے لفظ کہے اور پھر کہا کہ وہ کو کین 19A استعمال کرتے ہیں میں نے کہا کہ قطعاً غلط ہے اور وہ بضد رہا۔میری طبیعت پر اس گفتگو کا یہ اثر تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ یہاں قیام کرنے میں میں نے غلطی کی ہے اور میرا یہ احساس تھا کہ اگر کوئی دوست مجھے یہاں ملنے کیلئے بھی آئے اور تھوڑا وقت بھی ٹھہرے تو وہ بھی بُرا اثر قبول کریں گے۔(خاکسار محمد انور حسین ۱۹۵۶ء -۹-۱۴) پھر محمد یوسف صاحب بی ایس سی سابق افسر کویت کی گواہی ہے کہ ۱۹۳۱ء میں مولوی عبدالوہاب عمر خلیفہ ثانی پر گندے الزامات لگاتے رہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں :۔د میں نے ۱۹۲۹ ء میں بیعت کی تھی۔اس کے ایک دو سال بعد یا اسی دوران میں