خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 21

خلافة على منهاج النبوة ۲۱ جلد دوم اپنے کسی رشتہ دار کو اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا چنانچہ میں نے پیش کیا تھا کہ :۔کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی اپنے باپ یا بیٹے یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر نہیں کر سکتا۔نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شوری اس کے کسی مذکورہ بالا رشتہ دار کو اس کا جانشین مقرر کر سکتی ہے۔نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضا حنا یا اشارتاً اپنے کسی ایسے مذکورہ بالا رشتہ دار کی نسبت تحریک کرے کہ اس کو جانشین مقرر کیا جائے۔اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شورا ی کا فرض ہوگا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادانہ طور سے خلیفہ حسب قواعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نا مزدگی چونکہ نا جائز تھی وہ مستر د سمجھی جائے گی“۔اب دیکھو غیر مبائعین کی طرف سے یہ الزام اس شخص پر لگایا جاتا ہے جس نے خلافت کے متعلق پیش بندیاں پہلے سے ہی کر دی ہیں تا کہ کوئی ایسی کارروائی نہ کر سکے اور اگر کرے (انوار العلوم جلد ۱ صفحه ۵۳۶، ۵۳۷) تو اسے مستر د کر دیا جائے“۔النور : ۵۶