خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 330

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۰ جلد دوم دستبردار کرنے والے مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہی خلافت کی حفاظت کرے گا۔اگر یہ لوگ میری بات نہیں سنتے تو اپنے باپ کی بات تو سن لیتے۔وہ کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اب کسی شخص یا جماعت کی طاقت نہیں کہ وہ مجھے معزول کر سکے۔اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے پھر یہ لوگ مجھے معزول کیسے کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک جماعت کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا تھا اور اُس وقت جمع کر دیا تھا جب تمام بڑے بڑے احمدی میرے مخالف ہو گئے تھے اور کہتے تھے کہ اب خلافت ایک بچے کے ہاتھ میں آ گئی ہے اس لئے جماعت آج نہیں تو کل تباہ ہو جائے گی لیکن اس بچہ نے ۴۲ سال تک پیغامیوں کا مقابلہ کر کے جماعت کو جس مقام تک پہنچایا وہ تمہارے سامنے ہے۔شروع میں ان لوگوں نے کہا تھا کہ ۹۸ فیصدی احمدی ہمارے ساتھ ہیں لیکن اب وہ دکھائیں کہ جماعت کا ۹۸ فیصدی جو اُن کے ساتھ تھا کہاں ہے۔کیا وہ ۹۸ فیصدی احمدی ملتان میں ہیں ، لاہور میں ہیں، پشاور میں ہیں، کراچی میں ہیں ؟ آخر وہ کہاں ہیں؟ کہیں بھی دیکھ لیا جائے ان کے ساتھ جماعت کے دو فیصدی بھی نہیں نکلیں گے۔مولوی نور الحق صاحب انور مبلغ امریکہ کی الفضل میں چٹھی چھپی ہے کہ عبدالمنان نے ان سے ذکر کیا کہ پشاور سے بہت سے پیغامی انہیں لینے کے لئے آئے ہیں اور وہ ان کا بہت ادب اور احترام کرتے ہیں لیکن کچھ دن ہوئے امیر جماعت احمد یہ پشاور یہاں آئے میں نے انہیں کہا کہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کا جواب چھپا ہے آپ وہ کیوں نہیں خرید تے تو انہوں نے کہا پشاور میں دو سے زیادہ پیغامی نہیں ہیں لیکن ان کے مقابل پر وہاں ہماری دو مساجد بن چکی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت وہاں کثرت سے پھیل رہی ہے پیغامیوں کا وہاں یہ حال ہے کہ شروع شروع میں وہاں احمدیت کے لیڈر پیغامی ہی تھے لیکن اب بقول امیر صاحب جماعت احمد یہ پشا ور وہاں دو پیغامی ہیں۔پس میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی اولا د کسی لالچ میں آگئی ہے۔کیا صرف ایک مضمون کا پیغام صلح میں چھپ جانا ان کیلئے لالچ کا موجب ہو گیا ؟ اگر یہی ہوا ہے تو یہ کتنی ذلیل بات ہے۔اگر پاکستان کی حکومت یہ کہہ دیتی کہ ہم حضرت خلیفہ اول کی