خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 329
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۹ جلد دوم وقت رومی سلطنت کی ایسی ہی طاقت تھی جیسی اس وقت امریکہ کی ہے۔اُس کی لشکر کشی کا ارادہ دیکھ کر ایک پادری نے جو بڑا ہوشیار تھا کہا بادشاہ سلامت! آپ میری بات سن لیں اور لشکر کشی کرنے سے اجتناب کریں یہ لوگ اگر چہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن آپ کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے۔پھر اس نے کہا آپ دو کتے منگوائیں اور انہیں ایک عرصہ تک بھوکا رکھیں پھر ان کے آگے گوشت ڈال دیں۔وہ آپس میں لڑنے لگ جائیں گے۔اگر آپ انہی کتوں پر شیر چھوڑ دیں تو وہ دونوں اپنے اختلافات کو بھول کر شیر پر جھپٹ پڑیں گے۔اس مثال سے اس نے یہ بتایا کہ تو چاہتا ہے کہ اس وقت حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کے اختلاف سے فائدہ اُٹھالے لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ جب بھی کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کا سوال پیدا ہوگا یہ دونوں اپنے باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے اور دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور ہوا بھی یہی۔جب حضرت معاویہ گو روم کے بادشاہ کے ارادہ کا علم ہوا تو آپ نے اُسے پیغام بھیجا کہ تو چاہتا ہے کہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرے لیکن میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میری حضرت علیؓ کے ساتھ بے شک لڑائی ہے لیکن اگر تمہارا لشکر حملہ آور ہوا تو حضرت علی کی طرف سے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے جو سب سے پہلا جرنیل نکلے گا وہ میں ہونگا۔اب دیکھ لو حضرت معاویہ حضرت علیؓ سے اختلاف رکھتے تھے لیکن اس اختلاف کے باوجود انہوں نے رومی بادشاہ کو ایسا جواب دیا جو اس کی امیدوں پر پانی پھیر نے والا تھا لیکن حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی اولاد کا یہ حال ہے کہ انہیں اتنی بھی توفیق نہ ملی کہ پیغامیوں سے کہتے کہ تم تو ساری عمر ہمارے باپ کو گالیاں دیتے رہے ہو پھر ہمارا تم سے کیا تعلق ہے۔انہیں وہ گالیاں بھول گئیں جو ان کے باپ کو دی گئی تھیں اور چپ کر کے بیٹھے رہے۔انہوں نے ان کی تردید نہ کی اور تردید بھی انہوں نے اس لئے نہ کی کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو شاید پیغامی ہماری تائید نہ کریں حالانکہ اگر ان کے اندر ایمان ہوتا تو یہ لوگ کہتے ہمارا ان لوگوں سے کیا تعلق ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی وہ تقاریر موجود ہیں جن میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے دستبردار کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کون ہیں مجھے