خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 325
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۵ جلد دوم کہ اس میں حصہ لینے والے حضرت خلیفہ اول کے لڑکے ہیں۔انہوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی آپ کا انکار کیا تھا اور اس انکار کی وجہ سے وہ عذاب الہی سے بچ نہیں سکا۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی اولاد کے اس فتنہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہمیں کس بات کا خوف ہے اگر وہ فتنہ میں ملوث ہیں تو خدا تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔شروع شروع میں جب فتنہ اُٹھا تو چند دنوں تک بعض دوستوں کے گھبراہٹ کے خطوط آئے اور انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنا دیا گیا ہے۔اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد ساری جماعت اپنے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ان لوگوں سے نفرت کرنے لگ گئی اور مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کے اور بھی بہت سے کارنامے ہیں مگر اس بڑھاپے کی عمر میں اور ضعف کی حالت میں جو یہ کارنامہ آپ نے سرانجام دیا ہے یہ اپنی شان میں دوسرے کارناموں سے بڑھ گیا ہے۔آپ نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ ان لوگوں کو ننگا کر دیا ہے جو بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے کے در پے تھے۔اس طرح آپ نے جماعت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا ہے۔مری میں مجھے ایک غیر احمدی کرنل ملے انہوں نے کہا کہ جو واقعات ۱۹۵۳ء میں احمدیوں پر گزرے تھے وہ اب پھر ان پر گزرنے والے ہیں اس لئے آپ ابھی سے تیاری کر لیں اور میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ۱۹۵۳ء میں تو پولیس اور ملٹری نے آپ کی حفاظت کی تھی لیکن اب وہ آپ کی حفاظت نہیں کرے گی کیونکہ اُس وقت جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے وہ ڈرگئی ہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا کرنل صاحب ! پچھلی دفعہ میں نے کون سا تیر مارا تھا جو اب ماروں گا۔پچھلی دفعہ بھی خدا تعالیٰ نے ہی جماعت کی حفاظت کے سامان کئے تھے اور اب بھی وہی اس کی حفاظت کرے گا جب میرا خدا زندہ ہے تو مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میری اس بات کا کرنل صاحب پر گہرا اثر ہوا چنانچہ جب میں ان کے پاس سے اُٹھا اور دہلیز سے باہر نکلنے لگا تو وہ کہنے لگے فیتھ از بلائنڈ (Faith is Blind) یعنی یقین اور ایمان اندھا ہوتا ہے وہ خطرات کی پرواہ نہیں کرتا جب