خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 324
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۴ جلد دوم غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت حقہ کی وجہ سے کئی معجزات دکھائے ہیں۔تم دیکھ لو ۱۹۳۴ء میں مجلس احرار نے جماعت پر کس طرح حملہ کیا تھا لیکن وہ اس حملہ میں کس طرح نا کام ہوئے۔انہوں نے منہ کی کھائی۔پھر ۱۹۴۷ء میں قادیان میں کیسا خطرناک وقت آب لیکن ہم نہ صرف احمدیوں کو بحفاظت نکال لائے بلکہ انہیں لاریوں میں سوار کر کے پاکستان لے آئے۔دوسرے لوگ جو پیدل آئے تھے ان میں سے اکثر مارے گئے لیکن قادیان کے رہنے والوں کا بال تک بریکا نہیں ہوا۔اب بھی کچھ دن ہوئے مجھے ایک آدمی ملا اس نے مجھے بتایا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی شخص قادیان سے نہ نکلے۔چنانچہ ہم نے تو آپ کے حکم کی تعمیل کی اور وہاں ٹھہرے رہے لیکن میرے ایک رشتہ دار گھبرا کر ایک قافلہ کے ساتھ پیدل آگئے اور راستہ میں ہی مارے گئے۔ہم جو وہاں بیٹھے رہے لاریوں میں سوار ہو کر حفاظت سے پاکستان آگئے۔اُس وقت اکثر ایسا ہوا کہ پیدل قافلے پاکستان کی طرف آئے اور جب وہ بارڈر کر اس کرنے لگے تو سکھوں نے انہیں آلیا اور وہ مارے گئے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ پیدل قافلہ قادیان سے نکلتے ہی سکھوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اگر وہاں سے محفوظ نکل آیا تو بٹالہ آ کر یا فتح گڑھ چوڑیاں کے پاس مارا گیا لیکن وہ میری ہدایت کے مطابق قادیان میں بیٹھے رہے اور میری اجازت کا انتظار کرتے رہے۔وہ سلامتی کے ساتھ لاریوں میں سوار ہو کر لاہور آئے۔غرض ہر میدان میں خدا تعالیٰ نے جماعت کو خلافت کی برکات سے نوازا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت انہیں یاد رکھے۔مگر بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ انہیں یاد نہیں رکھتے۔پچھلے مہینہ میں ہی میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا کہ کوئی غیر مرئی وجود مجھے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو وقفہ وقفہ کے بعد جماعت میں فتنہ پیدا ہونے دیتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ جماعت کس طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتی ہے یا جب آپ کسی خاص طرف مڑیں تو کس سرعت کے ساتھ آپ کے ساتھ مڑتی ہے یا جب آپ اپنی منزل مقصود کی طرف جائیں تو وہ کس طرح اسی منزل مقصود کو اختیار کر لیتی ہے۔اب دیکھو یہ فتنہ بھی جماعت کے لئے ایک آزمائش تھی لیکن بعض لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے