خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 304
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۴ جلد دوم علیہ وسلم نے کیا ہی عجیب نکتہ بیان فرما دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص ساری رات اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتا ہے مگر دن چڑھے تو اُس سے لڑنے لگ جاتا ہے کے اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بیان فرمایا ہے کہ اگر میاں کو اپنی بیوی سے واقعی محبت ہے تو وہ دن کے وقت اُس سے کیوں محبت نہیں کرتا۔اسی طرح جو شخص کسی جلسہ میں وفاداری کا اعلان کر دیتا ہے اور مخفی طور پر ان لوگوں سے ملتا ہے جو جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنے چاہتے ہیں تو یہ کوئی وفاداری نہیں کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ جو لوگ تمہارے ہم مذہب نہیں ، ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔غیر مذہب والوں سے تعلق رکھنا منع نہیں۔حضرت ابن عباس کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب بازار سے گزرتے تو یہودیوں کو بھی سلام کرتے اس لئے یہاں مِن دُورنگم کی تشریح کی گئی ہے کہ تم ان لوگوں سے الگ رہو جو لا یا لوتكم حبال کے مصداق ہیں یعنی وہ تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی غیر مذہب والا تمہارے اندر فتنہ اور فساد پیدا نہیں کرنا چاہتا تو وہ شخص من دونگم میں شامل نہیں۔اگر تم اس سے مل لیتے ہو یا دوستانہ تعلق رکھتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ایسا شخص جو تمہاری جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا چاہتا ہے ، اس سے تعلق رکھنا خدا تعالیٰ نے ممنوع قرار دے دیا ہے۔پھر آگے فرماتا ہے تم کہہ سکتے ہو کہ اس کی کیا دلیل ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ قد بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ کچھ باتیں ان کے منہ سے نکل چکی ہیں وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ اكْبَرُ ان پر قیاس کر کے دیکھ لو کہ جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ کیا ہے۔کہتے ہیں ایک چاول دیکھ کر ساری دیگ پہچانی جاسکتی ہے اسی طرح یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مثلاً ایک منافق نے بقول اپنے بھائی کے کہا کہ خلیفہ اب بڑھا اور پاگل ہو گیا ہے اب انہیں دو تین معاون دے دینے چاہئیں۔اور ہمیں جو شہادت ملی ہے اس کے مطابق اس نے کہا کہ اب خلیفہ کو معزول کر دینا چاہئے۔اس فقرہ سے ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اس کے پیچھے بغض کا ایک سمندر موجزن تھا۔جس شخص کا اپنا باپ ، جب اس نے بیعت لی تھی اس عمر سے زیادہ تھا جس عمر کو میں