خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 300
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم تمہارے اندر ایک شخص بیٹھا ہوا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں اس کی منافقت کا پتہ نہیں۔وہ ہمیشہ مجھے لکھا کرتا ہے کہ آپ مجھ سے کیوں خفا ہیں؟ میں نے تو کوئی قابلِ اعتراض فعل نہیں کیا حالانکہ ہم نے اس کا ایک خط پکڑا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ خلیفہ جماعت کا لاکھوں روپیہ کھا گیا ہے اور لاکھوں روپیہ اس نے اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو کھلایا ہے۔اس نے سمجھا کہ میرے خط کو کون پہچانے گا۔اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ آجکل ایسی ایجاد یں نکل آئی ہیں کہ بغیر نام کے خطوط بھی پہچانے جا سکتے ہیں۔چنانچہ ایک ماہر جو یورپ سے تحریر پہچاننے کی بڑی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے ہم نے وہ خط اسے بھیج دیا اور چونکہ ہمیں شبہ تھا کہ اس تحریر کا لکھنے والا وہی شخص ہے اس لئے ایک تحریر سے بغیر بتائے اس سے لکھوالی اور وہ بھی اس خط کے ساتھ بھیج دی۔اس نے علوم جدیدہ کے مطابق خط پہچاننے کی پینتیس جگہ بتائی ہیں جو ماہرین نے بڑا غور کرنے کے بعد نکالی ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ لکھنے والا خواہ وہ کتنی کوشش کرے کہ اس کا خط بدل جائے ، یہ پینتیس جگہیں نہیں بدلتیں چنانچہ اس نے دونوں تحریروں کو ملا کر دیکھا اور کہا کہ لکھنے والے کی تحریر میں پینتیس کی پینتیس دلیلیں موجود ہیں اس لئے یہ دونوں تحریریں سو فیصدی ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہیں اور وہ شخص بار بار مجھے لکھتا ہے کہ آپ خواہ مخواہ مجھ سے ناراض ہیں۔میں نے کیا قصور کیا ہے؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔اس بیوقوف کو کیا پتہ ہے کہ اس کی دونوں تحریر میں ہم نے ایک ماہر فن کو دکھائی ہیں اور ماہر فن نے بڑے غور کے بعد جن پینتیس جگہوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدلتیں ، وہ اس کی تحریر میں نہیں بدلیں۔وہ شخص غالباً اب بھی یہاں بیٹھا ہو گا اور غالبا کل یا پرسوں مجھے پھر لکھے گا کہ میں تو بڑا وفا دار ہوں آپ خواہ مخواہ مجھ پر بدظنی کر رہے ہیں میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا حالانکہ اس نے ایک بے نام خط لکھا اور وہ خط جب ماہر فن کو دکھایا گیا اور اس کی ایک اور تحریر اسے ساتھ بھیجی گئی جو اس سے لکھوائی گئی تھی تو اس ماہر فن نے کہا کہ یہ دونوں تحریر میں اسی شخص کی ہیں۔پس خالی عہد کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے ساتھ انسان ان باتوں کو بھی مدنظر نہ رکھے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ نہ کی جائیں۔